مشرقِ وسطیٰ کے تناؤ کی وجہ سے عالمی تیل کی مارکیٹوں میں خلل کے دوران، بھارت نے بنگلہ دیش۔انڈیا فرینڈشپ پائپ لائن (BIFP) کے ذریعے بنگلہ دیش کو تقریباً 5,000 میٹرک ٹن ڈیزل کی فراہمی شروع کر دی ہے۔
بھارت کے سرکاری نشریاتی ادارے دُوردرشن نیوز کے مطابق یہ ایندھن سوموار کو آسام کے نُمالِرگ ریفائنری سے پمپ کیا گیا اور توقع ہے کہ تقریباً 44 گھنٹوں میں دیناج پور پہنچ جائے گا۔
2023 میں خدمت کے لئے کھولی گئی BIFP کو درآمد شدہ ایندھن کو مؤثر طریقے سے منتقلی اور بنگلہ دیش کے لیے لاگت میں کمی کے لیے بنایا گیا تھا۔ بنگلہ دیش کے پاس اسٹریٹجک تیل کے قابلِ ذکر ذخائر موجود نہ ہونے کی وجہ سے یہ ملک محدود آپریشنل اسٹوریج اور فوری درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق دِہلی نے، ڈھاکہ کی اضافی سپلائی کی درخواست کے بعد، پائپ لائن کے ذریعے ڈھاکہ کو 180,000 ٹن ڈیزل فراہم کرنے کا ارادہ کیا ہے۔
بنگلہ دیشی حکام نے پیٹرول پمپوں پر طویل قطاروں کی وجہ سے وسائل کے تحفظ کے لئے ملک بھر میں اسکول بند کر دیئے ہیں اور پیٹرول کی فراہمی پیٹرول کارڈ سے شروع کر دی ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیل اور امریکہ کے 28 فروری کو ایران پر مشترکہ حملوں کے بعد علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ حملوں کے نتیجے میں اُس وقت کے دینی لیڈر علی خامنہ ای سمیت 1200 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چُکے ہیں۔
جوابی حملوں میں تہران نے اسرائیل ، اردن، عراق اور امریکی عسکری اثاثوں والے کئی خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا ہے۔
ایران نے 28 فروری کو آبنائے ہرمُز کو عملاً بند کر دیا۔ یہ اسٹریٹجک آبی گزرگاہ یومیہ تقریباً 20 ملین بیرل تیل کی ترسیل کا اور عالمی مائع قدرتی گیس کی تجارت کے تقریباً 20 فیصد کا راستہ ہے۔











