فیفا کے صدر جیانی انفانتینو نے کہا ہے کہ عالمی فٹبال کے بورڈ آف گورنرز نے وسیع مخالفت کے بعد عالمی کپ میں نجی سرمایہ کاروں کو شیئر فروخت کرنے کے منصوبے کو ختم کر دیا ہے۔
انفاتینیو نے جمعہ کو کہا کہ "تمام آراء کو غور سے سننے کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ یہ منصوبہ ایسی تقسیم پیدا کر چکا ہے جو، حمایت کی سطح کے باوجود، ابتدائی طور پر مقرر کردہ مقصد کے مفاد میں نہیں رہا۔"
فیفا کے صدر جیانی انفانتینو نے ایک بیان میں کہا کہ"ہمارا مقصد ہمیشہ سے — اور ہمیشہ رہے گا — اتحاد اور بہتری لانا رہا ہے۔"
"اسی نتیجے کے طور پر، یہ تجویز آگے نہیں بڑھے گی۔"
فیفا نے منگل کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ ورلڈ کپ اور اپنے دوسرے ٹورنا منٹ کے انتظام کے لیے 20 ارب ڈالر کی ایک ذیلی کمپنی قائم کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے، جس میں بیرونی سرمایہ کاروں کو 20 فیصد تک کا شیئرپیش کیا جا سکتا ہے۔ اس فروخت سے زیادہ سے زیادہ 4.2 ارب ڈالر حاصل ہو سکتے تھے۔
فیفا کے منصوبے کے خلاف مخالفت
یو ای ایف اے (UEFA) اور یورپ کی تمام 55 ایسوسی ایشنز نے اس تجویز کو مسترد کر دیا اور خبردار کیا کہ اگر اسے ترک نہ کیا گیا تو وہ فیفا کے مقابلوں کا بائیکاٹ کریں گی۔
کنکاکاف (CONCACAF) اور اس کی 41 ایسوسی ایشنز نے بھی شفافیت، گورننس، اور مناسب مشاورت کی کمی کے حوالے سے خدشات ظاہر کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا۔
ایشین فٹبال کنفیڈریشن (AFC)، جو 47 ایسوسی ایشنز کی نمائندگی کرتی ہے، نے یو ای ایف اےاور کنکاکاف کے ساتھ مخالفت میں شامل ہو کر اس کی حمایت نہیں کی۔ یہ تینوں کنفیڈریشنز مل کر فیفا کے 211 ممبروں میں سے 143 کی نمائندگی کرتے ہیں۔
افریقی فٹبال کنفیڈریشن (CAF) نے تجویز کو براہِ راست مسترد تو نہیں کیا مگر کہا ہے کہ وہ اگلے ہفتے ایگزیکٹیو کمیٹی کے اجلاس میں اس منصوبے کا جائزہ لے گی۔
اوشینیا فٹبال کنفیڈریشن (OFC) نے بھی کہا کہ وہ اس مسئلے پر اگست کے ایگزیکٹو اجلاس میں بات کرے گی۔
جنوبی امریکہ کی کونمبول (CONMEBOL) نے کہا کہ اس نے اپنے دس رکن فیڈریشنز کے ساتھ مشاورت شروع کر دی ہے اور معاملے کا جائزہ لینے کے لیے کونسل کا اجلاس طلب کیا ہے۔
مخالفت کنفیڈریشنز سے آگے بھی پھیل چکی ہے۔




















