میٹا، دو عددسزا ئے قید اور تقریباً ایک ارب ڈالر جرمانے کی سزاکے بعد، اس ہفتے ایک اور مقدمے کا سامنا کر رہا ہے۔
اطلاع کے مطابق حالیہ مقدمہ امریکہ کی چار ریاستوں کی جانب سے دائر کروایا گیا ہے اور اس میں میٹا کے سوشل میڈیا پلیٹ فارموں سے بچوں کو پہنچنے والے نقصانات کا معاملہ اٹھایا گیا ہے۔
امریکہ میں سوشل نیٹ ورکوں کو نشانہ بنانے والی متعدد قانونی کارروائیاں کی جا رہی ہیں لیکن مذکورہ وفاقی مقدمہ ان مقدمات میں شامل ہے جن کے نتائج سب سے زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔ مقدمے کی کارروائی بدھ کے روز سان فرانسسکو کے شہر اوکلینڈ کی ایک وفاقی عدالت میں جیوری کے انتخاب سے شروع ہوگی۔
توقع ہے کہ ابتدائی دلائل 18 اگست کو شروع ہوں گے۔ مقدمے کی سماعت تقریباً چھ ہفتے جاری رہے گی اور اکتوبر کے آغاز تک فیصلہ سُنا دیا جائے گا۔
کیلیفورنیا، کولوراڈو، کینٹکی اور نیو جرسی کے اٹارنی جنرلوں کا الزام ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے سوشل میڈیا نیٹ ورک 'میٹا' نے جان بوجھ کر انسٹاگرام اور فیس بک صفحات کو بچوں کے لیے اس انداز میں ڈیزائن کیا ہے کہ وہ ان کے لیے ایک نشہ اور ایک عادت بن جائیں۔
ریاستیں یہ مطالبہ بھی کر رہی ہیں کہ کم عمر صارفین کے لیے انسٹاگرام اور فیس بک کے طریقۂ کار پر وسیع پیمانے پر پابندیاں عائد کی جائیں۔ اس کے علاوہ 1.4 ٹریلین ڈالر تک تعزیری ہرجانے کا مطالبہ کیا گیا ہے جو تقریباً میٹا کی مجموعی مارکیٹ ویلیو کے برابر ہے۔ جمعے کے روز میٹا کی مارکیٹ ویلیو 1.5 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گئی تھی۔
میٹا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور شریک بانی مارک زکربرگ ان اہم شخصیات میں شامل ہیں جنہیں استغاثہ بطور گواہ عدالت میں پیش کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
زکربرگ نے تقریباً چھ ماہ قبل لاس اینجلس میں زیرِ سماعت ایک اور مقدمے میں بھی گواہی دی تھی۔




















