دنیا
2 منٹ پڑھنے
اقوام متحدہ: مصنوعی ذہانت کے لیے عالمی قواعد و ضوابط کی کاروائیاں شروع
اقوام متحدہ نے بڑھتے ہوئے خدشات کی وجہ سے مصنوعی ذہانت کے لیے عالمی قواعد و ضوابط وضع کرنے کے اقدامات شروع کر دیئے
اقوام متحدہ: مصنوعی ذہانت کے لیے عالمی قواعد و ضوابط کی کاروائیاں شروع
نئی دہلی میں سربراہی کانفرنس اس بڑھتے ہوئے اتفاق رائے کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی کہ مصنوعی ذہانت کے اثرات سے نمٹنے کے لیے عالمی ہم آہنگی ناگزیر ہوگی۔ / Reuters
13 گھنٹے قبل

اقوام متحدہ نے، معاشی خلل، غلط معلومات اور آن لائن بدسلوکی کے بارے میں بڑھتے ہوئے خدشات  کی وجہ سے مصنوعی ذہانت کے لیے عالمی قواعد و ضوابط وضع کرنے کے اقدامات شروع کر دیئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرش نے آج بروز جمعہ جاری کردہ بیان میں  کہا ہے کہ ایک نو تصدیق شدہ 'بین الاقوامی ماہرین پینل'، مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بدلتے نظاموں کے خطرات کی بہتر تفہیم اور زیادہ ہوشيار ضابطہ عمل کی تیار ی میں پالیسی سازوں کی مدد کرے گا۔

بھارت کے شہر نئی  دہلی میں ایک اجلاس سے خطاب میں گوٹیرش نے خبردار کیا ہے کہ ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے اس پر کنٹرول کی عالمی صلاحیت کو پیچھے چھوڑ دیا ہے جس نے معاشروں کو، روزگار سے محرومی سے لے کر نقصان دہ مواد کے پھیلاؤ کے خطرے  تک بہت سے ناپسندیدہ نتائج کے مقابل بے بس کر دیا ہے۔

گوٹیرش نے کہا ہے کہ AI کے دائرہ اختیار سے متعلق زیادہ واضح قانون،  اس کے ریگولیٹروں کو ایک ضابطہ عمل کا ہی  پابند  نہیں کریں گے بلکہ ہدف  کو تحفظ فراہم کرنے اور جدّتوں کے دوام  کی یقین دہانی کے ساتھ ساتھ خطرات کو کنٹرول میں رکھنے کا امکان بھی فراہم کریں گے۔

اے آئی بین الاقوامی ماہرین پینل کے اراکین میں نوبل انعام یافتہ صحافی ماریا ریسہ اور AI کی کینیڈین  محقق یوشوا بنجیو شامل ہیں۔ پینل کی پہلی رپورٹ جولائی میں متوقع اقوام متحدہ کے  AI گورننس مذاکرات  سے قبل متوقع ہے۔