مشرق وسطی
3 منٹ پڑھنے
ایران: جب تک لبنان میں فائر بندی جاری ہے ہُرمز کھُلا رہے گا
جنگ بندی کی بقیہ مدت کے دوران آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کے لئے مکمل طور پر کھلا رکھا جائے گا: وزیر خارجہ عباس عراقچی
ایران: جب تک لبنان میں فائر بندی جاری ہے ہُرمز کھُلا رہے گا
خلیج میں، آبنائے ہرمز کے قریب ایک مال بردار جہاز۔ / Reuters

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی  نے لبنان میں جنگ بندی کے حوالے سے جاری کردہ بیان میں جنگ بندی کی بقیہ مدت کے دوران آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کے لئے مکمل طور پر کھلا رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

عباس عراقچی نے آج بروز جمعہ  'ایکس' سے جاری کردہ بیان  میں کہا ہے کہ "آبنائے ہُرمز کو، لبنان میں فائر بندی سے  متوازی شکل میں اور ایران پورٹ اینڈ میری ٹائمز کمیٹی کے اعلان کردہ راستوں سے ، تمام تجارتی بحری جہازوں  کی آمد و رفت کے لئے مکمل شکل میں کھُلا رکھنے کا  اعلان کر دیا گیا ہے"۔  

امریکہ کےصدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے اس اعلان کا خیرمقدم کیا اورجمعہ کو اپنے 'ٹروتھ سوشل' پلیٹ فارم پر "شکریہ!" لکھ کر کہا ہے کہ  "ایران نے اس آبی راستے  کو مکمل طور پر کھولنے اور مکمل ٹرانزٹ کے لیے تیار ہونے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم تہران کے ساتھ امن معاہدہ ہونے تک ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی جاری رہے گی"۔

واضح رہے کہ 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی کے حملوں کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہُرمز  سے گزرنے والے جہازوں کی آمد و رفت انتہائی محدود رہی ہے۔ ہفتے کے آخر میں ہونے والے معمولی اضافے کے علاوہ آبنائے سے یومیہ  گزرنے والے جہازوں کی تعداد دہائیوں تک نہیں پہنچ سکی۔

امریکی بحریہ کی حالیہ پابندیوں کے تحت جہازوں کے مالکان کے لیے خلیج سے تیل اور دیگر اشیاء باہر نکالنے کے لیے ایرانی اور امریکی حکام، دونوں سے اجازت لینا ضروری ہے۔ اس پابندی نے کارگو کی روانی سے متلق غیر یقینی صورتحال میں اضافہ کر دیا ہے۔

اگرچہ گزشتہ ہفتے غیر ایرانی خام تیل لے جانے والے تین سپر ٹینکر آبنائے  سے نکلنے میں کامیاب رہے لیکن ناکہ بندی نافذ ہونے سے پہلے کے سات ہفتوں کے دوران بھی  اس آبنائے سے بہت کم کارگو گزر سکا ہے۔

'شالامار' نامی ٹینکر نے سب سے پہلے اتوار کے روز خلیج میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی، لیکن امریکہ۔ایران امن مذاکرات کی ناکامی کے بعد ٹینکر واپس مڑ گیا تھا۔ بعد ازاں اس نے اپنا سفر مکمل کیا اور 'داس آئی لینڈ' کی طرف روانہ ہوا، جہاں سے خام تیل لادنے کے بعد وہ جمعرات کو مشرق کی جانب روانہ ہو گیا تھا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا تھا  کہ گزشتہ تین دنوں میں 14 جہاز واپس مڑ گئے ہیں  جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بہت سے جہازوں کے مالکان موجودہ حالات میں آبنائے سے گزرنے کا خطرہ مول لینے کو تیار نہیں ہیں۔

اطلاعات کے مطابق یہ بحری ناکہ بندی عمان کے ساحل پر 'راس الحد' کے قریب سے لے کر ایران اور پاکستان کی سرحد تک پھیلی ہوئی ہے۔

 

دریافت کیجیے
مصر میں ایک شاپنگ مال میں دھماکے میں 3 افراد ہلاک، 17 زخمی
ترکیہ۔پاکستان۔سعودی عرب دفاعی معاہدے کا مقصد مشترکہ صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے: انقرہ
پولینڈ: 19 ملین افراد کی طبّی معلومات چوری ہو گئیں
ترکیہ: ،علی خان کوریش نیٹ ورک کے خلاف آپریشن کا آغاز
نارویجیئن وزیر  خارجہ کا دورہ پاکستان،اہم امور پر  تبادلہ خیال
ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کا اسرائیلی دعوی مشکوک ہے:سی آئی اے
فرانس: ایران مظاہرین کو سزائے موت دینا بند کرے
انڈونیشیا: مسافر بردار کشتی میں آگ لگ گئی، ایک مسافر ہلاک
کولومبیا:زلزلے سے ہلاک شدگان کی تعداد496ہو گئی،قومی سوگ کا اعلان
لبنان میں ہماری فوج تعینات رہے گی:یسرائیل کاتز
گولان شام کا اٹوٹ حصہ ہے:ترکیہ
آسٹریلیا: بونڈی بیچ دعوے میں 800 سے زائد گواہوں کے بیانات جمع کر لئے گئے
زمبابوے میں مسافر فیری کے الٹنے سے کم  از کم 15 افراد ہلاک
بیجنگ نے موسلادھار بارشوں کے باعث بس سروسز معطل کر دیں، سیاحتی علاقوں کو بند کر دیا
"عالمی ریڈ کراس کا تعاون " غزہ میں تباہ حال عمارتوں سے لاشیں نکالنے کا آغاز