ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے لبنان میں جنگ بندی کے حوالے سے جاری کردہ بیان میں جنگ بندی کی بقیہ مدت کے دوران آبنائے ہرمز کو تمام تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کے لئے مکمل طور پر کھلا رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
عباس عراقچی نے آج بروز جمعہ 'ایکس' سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "آبنائے ہُرمز کو، لبنان میں فائر بندی سے متوازی شکل میں اور ایران پورٹ اینڈ میری ٹائمز کمیٹی کے اعلان کردہ راستوں سے ، تمام تجارتی بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لئے مکمل شکل میں کھُلا رکھنے کا اعلان کر دیا گیا ہے"۔
امریکہ کےصدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے اس اعلان کا خیرمقدم کیا اورجمعہ کو اپنے 'ٹروتھ سوشل' پلیٹ فارم پر "شکریہ!" لکھ کر کہا ہے کہ "ایران نے اس آبی راستے کو مکمل طور پر کھولنے اور مکمل ٹرانزٹ کے لیے تیار ہونے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم تہران کے ساتھ امن معاہدہ ہونے تک ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی جاری رہے گی"۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی کے حملوں کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہُرمز سے گزرنے والے جہازوں کی آمد و رفت انتہائی محدود رہی ہے۔ ہفتے کے آخر میں ہونے والے معمولی اضافے کے علاوہ آبنائے سے یومیہ گزرنے والے جہازوں کی تعداد دہائیوں تک نہیں پہنچ سکی۔
امریکی بحریہ کی حالیہ پابندیوں کے تحت جہازوں کے مالکان کے لیے خلیج سے تیل اور دیگر اشیاء باہر نکالنے کے لیے ایرانی اور امریکی حکام، دونوں سے اجازت لینا ضروری ہے۔ اس پابندی نے کارگو کی روانی سے متلق غیر یقینی صورتحال میں اضافہ کر دیا ہے۔
اگرچہ گزشتہ ہفتے غیر ایرانی خام تیل لے جانے والے تین سپر ٹینکر آبنائے سے نکلنے میں کامیاب رہے لیکن ناکہ بندی نافذ ہونے سے پہلے کے سات ہفتوں کے دوران بھی اس آبنائے سے بہت کم کارگو گزر سکا ہے۔
'شالامار' نامی ٹینکر نے سب سے پہلے اتوار کے روز خلیج میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی، لیکن امریکہ۔ایران امن مذاکرات کی ناکامی کے بعد ٹینکر واپس مڑ گیا تھا۔ بعد ازاں اس نے اپنا سفر مکمل کیا اور 'داس آئی لینڈ' کی طرف روانہ ہوا، جہاں سے خام تیل لادنے کے بعد وہ جمعرات کو مشرق کی جانب روانہ ہو گیا تھا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا تھا کہ گزشتہ تین دنوں میں 14 جہاز واپس مڑ گئے ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بہت سے جہازوں کے مالکان موجودہ حالات میں آبنائے سے گزرنے کا خطرہ مول لینے کو تیار نہیں ہیں۔
اطلاعات کے مطابق یہ بحری ناکہ بندی عمان کے ساحل پر 'راس الحد' کے قریب سے لے کر ایران اور پاکستان کی سرحد تک پھیلی ہوئی ہے۔







