پاکستان
3 منٹ پڑھنے
پاکستان۔افغانستان مذاکرات دوبارہ شروع ہو گئے
پاکستان حکومت اور افغانستان کی طالبان حکومت نے چین میں دوبارہ بات چیت شروع کر دی
پاکستان۔افغانستان مذاکرات دوبارہ شروع ہو گئے
فائل فوٹو: پاکستان اور افغانستان کی افواج کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے بعد ایک طالبان فوجی طیارہ شکن گن چلا رہا ہے۔ / Reuters

پاکستان حکومت اور افغانستان کی طالبان حکومت نے، ایک ماہ سے زائد عرصے سے جاری سرحد پار حملوں کے بعد،  چین میں دوبارہ بات چیت  شروع کر دی ہے ۔

نام کو پوشیدہ رکھتے ہوئے دو پاکستانی حکام نےآج بروز  بدھ  ایسوسی ایٹڈ پریس کے لئے جاری کردہ بیان میں  شمالی چین کے علاقے اُرُمچی میں بیجنگ کے زیرِ  ثالثی ملاقاتوں کی تصدیق کی ہے۔

ایک تیسرے ذریعے نے  کہا ہے کہ مذاکرات کا مقصد جاری لڑائی کو ختم  کروانا تھا۔

چین نے کوئی بیان جاری نہیں کیا اور پاکستان  وزارتِ خارجہ نے  بھی مذاکرات کی تصدیق یا تردید میں کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

پاکستان کے، 26 فروری کو افغانستان میں دہشت گردی کے ٹھکانوں کے خلاف، آپریشن غضب للحق شروع کرنے کے بعد اسلام آباد اور کابل کے درمیان سفارتی رابطے بڑی حد تک معطل ہو گئے تھے ۔

پاکستان وزارتِ خارجہ کے اہلکار نے،نام کو پوشیدہ  رکھتے ہوئے، مقامی روزنامہ ڈان کو بتایا ہے کہ موجودہ بات چیت "مکمل معنوں میں ثالثی کی کوشش" نہیں ہے بلکہ مذاکرات کا غالب مقصد  افغانستان کی تعاون کی خواہش کو جانچنا ہے۔

ایک دوسرے پاکستانی اہلکار کے مطابق کابل کی تجویز کے بعد بیجنگ کی درخواست پر پاکستان کے نائب  وزیراعظم اسحاق ڈار نے ملاقاتوں میں شرکت کی۔مذاکرات کی نوعیت  "جانچ پرکھ  اور جائزہ" مذاکرات  کی تھی۔ مذاکراتی مراحل پاکستان کے افغانستان ڈیسک  کے ذمہ دار مشیر کی طرف سے  ڈائریکٹر جنرل کی سطح پر چلائے گئے ہیں۔

اہلکار نے کہا ہے کہ "پاکستان وفد میں فوجی اور انٹیلی جنس حکام بھی شامل ہیں جبکہ افغانستان وفد میں داخلہ و خارجہ وزارتوں کے نمائندے شامل ہیں۔

پاکستان کا انسدادِ دہشت گردی آپریشن

2021 میں طالبان کے افغانستان کا اقتدار سنبھالنے کے بعد سے پاکستان میں  دہشت گردانہ حملوں میں دوبارہ  اضافہ ہوگیا ہے اور پاکستان،دہشت گردی کی  سرحد پار پناہ گاہوں کو ختم کرنے کی بار بار اپیلیں کر چُکا  ہے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ افغانستان، تحریکِ طالبانِ پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دہشت گردوں اور ٹی ٹی پی سے منسلک گروپوں کو پناہ دیئے ہوئے ہے لیکن کابل ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

افغانستان کی طرف سے پاکستانی فوج پر سرحد پار حملوں کے بعد اسلام آباد نے 26 فروری کو آپریشن غضب للحق شروع کر دیا  تھا۔

پاکستان نے یہ آپریشن عید الفطر کے موقع پر عارضی طور پر 18 سے 23 مارچ تک روک دیا اور جاری کردہ بیان میں  کہا  تھاکہ طے شدہ مقاصد حاصل ہونے تک آپریشن  جاری رہے گا۔

سعودی عرب، قطر اور ترکیہ نے کشیدگی  میں کمی کی اپیل کی اور ان ممالک کی کوششوں سے عارضی ہی کیوں نہ ہو حملوں میں وقفہ آیا ہے۔

دریافت کیجیے
اسرائیلی فوج نے تین سالہ جنگ میں 30 سال کے استعمال کے لائق گولیاں استعمال کی ہیں
امریکہ میں، 75 ممالک کے شہریوں پر عائد کردہ امیگرینٹ ویزے پر پابندی کالعدم قرار
امریکہ، ایران کے خلاف ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ میں داخل ہو گیا ہے: بیسنٹ
اسرائیلی فوج کی جنوبی شام میں  ایک نئی فوجی کارروائی
غیر قانونی اسرائیلی آباد کاروں نے قصرہ میں تین فلسطینی گھروں کو گھیرے میں لے لیا
کینیڈا ہماری ریاست بنے بغیر تمام فوائد چاہتاہے:ٹرمپ
ہمسایہ ممالک امریکہ کا آلہ کار نہ بنیں ورنہ انجام ٹھیک نہ ہوگا:ایران
"اسرائیل پر پابندی ختم "کولومبیا کوئلہ برآمد کرےگا
جب تک اقتدار پر ہوں فلسطینی ریاست کا قیام ممکن نہیں ہوگا:نیتن یاہو
ایران ' نہ جنگ ، نہ امن' کی صورتحال کا خاتمہ چاہتا ہے:پزشکیان
اسرائیلی فوجی حکام نیتن یاہو انتخابات میں تاخیر کرنے کے لیے تشدد میں اضافے کی کوشش کر سکتے ہیں: رپورٹ
قالیباف: ہمیں ہمسایہ ممالک سے سیکیورٹی اور اقتصادی تعاون کے پیغامات موصول ہوئے ہیں
امریکی سفیر: شام میں اسرائیلی حملے کے پیچھے غلط معلومات کا ہاتھ تھا
کولمبیا میں زلزلے سے اموات کی تعداد میں اضافہ؛ ترکیہ کی انسانی امداد کی فراہمی میں تیزی
یوکرینی ڈراونز نے روسی علاقے ثمارا میں ایک صنعتی تنصیب اور اوزون گودام کو نشانہ بنایا