دنیا
2 منٹ پڑھنے
روس اور یوکرین کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ
روس نے اعلان کیا ہے کہ یوکرین کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کا ایک اور دور مکمل ہو گیا ہے، جس کے تحت دونوں طرف سے 185، 185 فوجی اہلکار واپس لوٹ آئے ہیں
روس  اور یوکرین کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ
یوکرین-روس / Reuters

روس نے اعلان کیا ہے کہ یوکرین کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کا ایک اور دور مکمل ہو گیا ہے، جس کے تحت دونوں طرف سے 185، 185 فوجی اہلکار واپس لوٹ آئے ہیں۔

روس کی وزارتِ دفاع نے جمعہ کو ایک بیان میں بتایا کہ جنگی قیدیوں کے اس تبادلے میں متحدہ عرب امارات  نے مدد فراہم کی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ رہا ہونے والے روسی فوجی اس وقت بیلاروس میں ہیں، جہاں روس کی انسانی حقوق کی کمشنر یانا لانتراتووا ان کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں۔

وزارت نے کہا، "رہا ہونے والے فوجی اہلکار فی الحال بیلاروس میں ہیں، جہاں انہیں نفسیاتی اور طبی امداد دی جا رہی ہے۔ اس کے بعد انہیں علاج اور بحالی کے لیے روس منتقل کیا جائے گا۔"

یوکرین کے کئی اعلیٰ حکام نے بتایا کہ اس تبادلے کی تیاریاں حالیہ ہفتوں میں شروع ہو گئی تھیں۔

یہ تبادلہ یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کی جانب سے اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتن سے چار سالہ تنازع کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کی اپیل کے ایک دن بعد ہوا ہے۔

روسی وزارتِ دفاع نے کہا، "5 جون کو کیئف حکومت کے زیرِ اثر علاقے سے 185 روسی فوجی واپس لائے گئے، بدلے میں، 185 یوکرینی جنگی قیدیوں کو حوالے کیا گیا۔"

صدر زیلنسکی نے بتایا کہ رہا ہونے والے یوکرینی فوجیوں میں سے کچھ کو روس نے 2022 سے قید کر رکھا تھا۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا، "اپنے لوگوں کی واپسی یوکرین کی مستقل ترجیح ہے۔ ہم ہر روز ہر یوکرینی مرد اور عورت کو قید سے آزاد کرانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔"

یوکرینی حکام نے فوجیوں کی تصاویر شیئر کیں جن کے سر منڈواے ہوئے تھے اور وہ یوکرین کے پرچم لپیٹے ایک دوسرے کو گلے لگا رہے تھے۔