لبنانی صدارتی دفتر کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنانی صدر جوزف عون کے ساتھ ایک فون رابطے کے دوران لبنان کی خودمختاری، معیشت اور مسلح افواج کے لیے تعاون کا وعدہ کیا ہے۔
صدارتی دفتر نے بتایا کہ ٹرمپ نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان امریکہ کی زیرِ سرپرستی طے پانے والے فریم ورک معاہدے پر دستخط ہونے پر عون کو مبارکباد دی اور لبنان اور اس کے عوام کے لیے واشنگٹن کی حمایت کا اعادہ کیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اس معاہدے پر عمل درآمد اور لبنان میں امن و استحکام کی بحالی میں مدد جاری رکھے گا۔ انہوں نے لبنان کی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کے لیے امریکی تعاون پر بھی زور دیا، اور ساتھ ہی ملک کی مسلح افواج کے ذریعے تمام لبنانی علاقے پر ریاستی رٹ قائم کرنے کی کوششوں کی حمایت کی۔
ٹرمپ نے لبنان کی معیشت اور اس کی "قانونی سیکیورٹی فورسز" کے لیے بھی تعاون کا وعدہ کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن لبنان کو اس کا علاقائی اور بین الاقوامی کردار دوبارہ حاصل کرنے میں مدد کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑے گا۔
صدر عون نے لبنان کی "قانونی حیثیت" اور ریاستی اداروں، بالخصوص فوج کی حمایت کرنے پر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا۔
لبنانی صدر نے کہا کہ بیروت فریم ورک معاہدے پر عمل درآمد میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا اور امید ظاہر کی کہ واشنگٹن خلاف ورزیوں کو روکنے اور تمام وعدوں کی پاسداری یقینی بنانے میں مدد کرے گا۔
انہوں نے امریکہ پر یہ زور بھی دیا کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے کہ وہ جنوبی لبنان کے ان علاقوں سے پیچھے ہٹے جن پر اب بھی اس کا قبضہ ہے، تاکہ بین الاقوامی سرحد تک لبنانی فوج کی تعیناتی کو آسان بنایا جا سکے۔
صدارتی دفتر نے مزید کہا کہ ٹرمپ نے واشنگٹن میں صدر عون سے جلد ملاقات کرنے کی امید ظاہر کی ہے۔















