سیاست
3 منٹ پڑھنے
چین امریکہ سے 'یکطرفہ ٹیرف' کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے
امریکی یکطرفہ ٹیرف بین الاقوامی تجارتی قواعد اور امریکی داخلی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں، اور کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں ہیں
چین امریکہ سے 'یکطرفہ ٹیرف' کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے
کئی ممالک کا کہنا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا جائزہ لے رہے ہیں۔ (فائل) / Reuters

چین کی وزارت تجارت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ چین امریکی سپریم کورٹ کے ٹیرف فیصلے کا "بغور جائزہ" لے رہا ہے اور واشنگٹن سے اپنے تجارتی شراکت داروں کے خلاف "متعلقہ یکطرفہ ٹیرف عمل درآمد" ہٹانے کا مطالبہ کیا ۔

امریکی سپریم عدالت نے عالمی تجارتی جنگ میں استعمال کردہ کئی محصولات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے  صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دھچکا  دیا ہے ، ان میں حریف چین کے خلاف بعض محصولات بھی شامل تھے۔

فیصلے کے چند گھنٹوں کے اندر، ٹرمپ نے کہا کہ وہ منگل سے تمام ممالک سے آنے والی امریکی درآمدات پر 10 فیصد نئی ڈیوٹی عائد کریں گے، جسے انہوں نے ہفتے کو 15 فیصد تک بڑھا دیا۔

چینی وزارت نے مزید کہا کہ"امریکی یکطرفہ ٹیرف بین الاقوامی تجارتی قواعد اور امریکی داخلی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں، اور کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں ہیں۔"

وزارت نے کہا کہ اس نے نوٹس کیا ہے کہ امریکہ متبادل طریقوں کے ذریعے اپنے تجارتی شراکت داروں پر محصولات برقرار رکھنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جن میں تجارتی تحقیقات بھی شامل ہیں۔

وزارت نے کہا"چین اس معاملے پر مسلسل گہری نظر رکھے گا اور اپنے مفادات کو مضبوطی سے محفوظ رکھے گا،"

ٹرمپ 31 مارچ سے 2 اپریل تک چین کا دورہ کریں گے، جہاں دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے رہنماؤں کے درمیان ایک طویل متوقع ملاقات طے ہے۔

عدالت نے جمعہ کو چھ کے مقابلے تین ووٹوں سے فیصلہ دیا کہ ٹرمپ کے پاس 1977 کے ایک قانون کے تحت محصولات عائد کرنے کا اختیار نہیں ہے، جس پر وہ مخصوص ممالک پر اچانک محصولات عائد کرنے کے لیے انحصار کرتے رہے — اس فیصلے نے عالمی تجارت کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔

ٹرمپ نے کہا کہ اگلے چند ماہ میں ان کی انتظامیہ "قانونی طور پر جائز" محصولات نافذ کرنے کے لیے مزید متبادل راستے تلاش کرے گی۔

ہفتے کے روز کا یہ اعلان اس بھاری اور الجھے ہوئے عمل کا تازہ ترین واقعہ ہے جس میں گزشتہ سال کے دوران ٹرمپ کی ٹیم نے امریکہ میں اشیا بھیجنے والے ممالک کے لیے محصولات کی متعدد سطحیں مقرر کیں اور پھر انہیں تبدیل یا منسوخ کر دیا۔

یہ بظاہر سپریم کورٹ کے تازہ فیصلے کو چکمہ دینے یا اس سے بچنے کی کوشش معلوم ہوتا ہے، جس نے شاید اب تک اسی ریپبلیکن رہنما کی وسیع اور اکثر اوقات من مانی محصولات پالیسی پر سب سے سخت سرزنش کی۔

کئی ممالک نے کہا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے اور ٹرمپ کے بعد کے محصولات کے اعلانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

امریکی تجارتی نمائندے جامیسن گر نے اتوار کو امریکی میڈیا سے کہا کہ عدالت کے فیصلے کے باوجود ملک کے چین، یورپی یونین اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ تجارتی معاہدے برقرار رہیں گے۔

دریافت کیجیے
حوثیوں کا دعوی: سعودی ہوائی اڈوں اور فوجی بیسوں پر ڈرون اور میزائل حملے کئے گئے ہیں۔
صدر رجب طیب اردوان کا استنبول کے 103 ویں یوم ِنجات پر خصوصی پیغام
امریکہ: نضال ملک حسن کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دی جائے گی
اسرائیل نے فوج کو غزہ پر حملوں کے لئے تیاری کا حکم دے دیا
امریکی وزیر خارجہ اچانک آئس لینڈ پہنچ گئے
امریکہ: وفاقی جج نے ٹرمپ انتظامیہ کے عائد کردہ جرمانوں کا نفاذ روک دیا
اسرائیل خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے: امریکی خفیہ رپورٹ
ایران: "امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں"
غزہ میں جنگ بندی مستقل طور سے بحال کروائی جائے: گوتیرس
اتحادی افواج کا یمن میں  آپریشن، حوثیوں کے ٹھکانوں پر حملے
"مکہ معاہدہ" سیکریٹری جنرل نعمان محمود ہونگے
ماسکو پر 650 ڈرونز سے حملہ،  روس کے خلاف گزشتہ دو برسوں میں بڑا ترین دوسرا حملہ تھا
ترکیہ کا ردعمل: اسرائیل، شام میں کاروائیاں کرنا بند کرے
فرانس:طلباء کی احتجاجی تحریک جاری، 500 ہائی اسکول بند ہو گئے
رونالڈو اگر چاہیں تو پرتگال ٹیم میں واپس آ سکتے ہیں:ہیڈ کوچ