سیاست
3 منٹ پڑھنے
چین امریکہ سے 'یکطرفہ ٹیرف' کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے
امریکی یکطرفہ ٹیرف بین الاقوامی تجارتی قواعد اور امریکی داخلی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں، اور کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں ہیں
چین امریکہ سے 'یکطرفہ ٹیرف' کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے
کئی ممالک کا کہنا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا جائزہ لے رہے ہیں۔ (فائل) / Reuters
23 فروری 2026

چین کی وزارت تجارت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ چین امریکی سپریم کورٹ کے ٹیرف فیصلے کا "بغور جائزہ" لے رہا ہے اور واشنگٹن سے اپنے تجارتی شراکت داروں کے خلاف "متعلقہ یکطرفہ ٹیرف عمل درآمد" ہٹانے کا مطالبہ کیا ۔

امریکی سپریم عدالت نے عالمی تجارتی جنگ میں استعمال کردہ کئی محصولات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے  صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دھچکا  دیا ہے ، ان میں حریف چین کے خلاف بعض محصولات بھی شامل تھے۔

فیصلے کے چند گھنٹوں کے اندر، ٹرمپ نے کہا کہ وہ منگل سے تمام ممالک سے آنے والی امریکی درآمدات پر 10 فیصد نئی ڈیوٹی عائد کریں گے، جسے انہوں نے ہفتے کو 15 فیصد تک بڑھا دیا۔

چینی وزارت نے مزید کہا کہ"امریکی یکطرفہ ٹیرف بین الاقوامی تجارتی قواعد اور امریکی داخلی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں، اور کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں ہیں۔"

وزارت نے کہا کہ اس نے نوٹس کیا ہے کہ امریکہ متبادل طریقوں کے ذریعے اپنے تجارتی شراکت داروں پر محصولات برقرار رکھنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جن میں تجارتی تحقیقات بھی شامل ہیں۔

وزارت نے کہا"چین اس معاملے پر مسلسل گہری نظر رکھے گا اور اپنے مفادات کو مضبوطی سے محفوظ رکھے گا،"

ٹرمپ 31 مارچ سے 2 اپریل تک چین کا دورہ کریں گے، جہاں دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے رہنماؤں کے درمیان ایک طویل متوقع ملاقات طے ہے۔

عدالت نے جمعہ کو چھ کے مقابلے تین ووٹوں سے فیصلہ دیا کہ ٹرمپ کے پاس 1977 کے ایک قانون کے تحت محصولات عائد کرنے کا اختیار نہیں ہے، جس پر وہ مخصوص ممالک پر اچانک محصولات عائد کرنے کے لیے انحصار کرتے رہے — اس فیصلے نے عالمی تجارت کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔

ٹرمپ نے کہا کہ اگلے چند ماہ میں ان کی انتظامیہ "قانونی طور پر جائز" محصولات نافذ کرنے کے لیے مزید متبادل راستے تلاش کرے گی۔

ہفتے کے روز کا یہ اعلان اس بھاری اور الجھے ہوئے عمل کا تازہ ترین واقعہ ہے جس میں گزشتہ سال کے دوران ٹرمپ کی ٹیم نے امریکہ میں اشیا بھیجنے والے ممالک کے لیے محصولات کی متعدد سطحیں مقرر کیں اور پھر انہیں تبدیل یا منسوخ کر دیا۔

یہ بظاہر سپریم کورٹ کے تازہ فیصلے کو چکمہ دینے یا اس سے بچنے کی کوشش معلوم ہوتا ہے، جس نے شاید اب تک اسی ریپبلیکن رہنما کی وسیع اور اکثر اوقات من مانی محصولات پالیسی پر سب سے سخت سرزنش کی۔

کئی ممالک نے کہا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے اور ٹرمپ کے بعد کے محصولات کے اعلانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

امریکی تجارتی نمائندے جامیسن گر نے اتوار کو امریکی میڈیا سے کہا کہ عدالت کے فیصلے کے باوجود ملک کے چین، یورپی یونین اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ تجارتی معاہدے برقرار رہیں گے۔

دریافت کیجیے
عالمی صمود بحری بیڑہ دوبارہ غزہ کے لئے عازمِ سفر
ترکیہ: اردوعان۔ماکرون ملاقات
پاکستان میں 21 گھنٹے کے طویل امریکہ۔ایران مذاکرات بغیر معاہدے کے ختم ہو گئے
امریکی فریق کے غیر معقول مطالبات نے مذاکرات میں پیش رفت نہیں ہونےدی: ایران ذرائع ابلاغ
اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مستقل جنگ بندی کے لیے مذاکرات شروع
ایران جنگ می امریکی طیارہ نما ڈراون طیاروں کو وسیع پیمانے کا نقصان
اسرائیل کے غزہ کے ایک مہاجر کیمپ پر حملے میں فلسطینی شہری شہید
امریکی خفیہ رپورٹ کے مطابق چین ایران کو دفاعی فضائی نظام فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے
امریکی نائب صدر جے ونس امریکہ-ایران مذاکرات کے لیے پاکستان پہنچ گئے
اسرائیل کا دعویٰ: ہم  نے ایران جنگ کے دوران 10,800 ہوائی حملے کیے ہیں
میلانیا ٹرمپ: میرے  جنسی جرائم کے مرتکب جیفری ایپسٹین سے کبھی کوئی تعلقات نہیں رہے
مشرق وسطی میں ایرانی ڈرونز گرانے میں مدد کی ہے:زیلنسکی
اسرائیل انسانیت کے لیے ایک "کینسر ہے": خواجہ آصف
ایرانی سینیئر سفارتکار  امریکہ۔اسرائیل دہشت گرد حملے میں ہلاک
بیلجیئم: جنگ بندی میں لبنان کو بھی شامل کیا جائے