دنیا
3 منٹ پڑھنے
عالمی ممالک کا ایران پر دباو: آبنائے ہُرمز کھولی جائے
'آبنائے ہرمز' کو دوبارہ کھلوانے کی خاطر سفارتی و سیاسی دباؤ ڈالنے کے لئے برطانیہ کی زیرِ قیادت تقریباً تین درجن ممالک کا اجلاس
عالمی ممالک کا ایران پر دباو: آبنائے ہُرمز کھولی جائے
برطانیہ کے وزیر اعظم کیر سٹارمر یکم اپریل 2026 کو لندن، برطانیہ میں ڈاؤننگ سٹریٹ پر ایک پریس کانفرنس کے لیے پہنچے۔ / Reuters

تقریباً تین درجن ممالک آج بروز جمعرات، امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ کی وجہ سے بند' آبنائے ہرمز' کو دوبارہ کھلوانے کی خاطر سفارتی و سیاسی دباؤ ڈالنے کے لئے ایک اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔

 برطانیہ کے  وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے کہا  ہےکہ وزیرِ خارجہ ایویٹ کوپر کی زیرِ صدارت متوقع  آن لائن اجلاس   میں بحری سیر و سفر  کی بحالی، آبنائے ہُرمز کی بندش کے باعث علاقے میں محصور بحری جہازوں اور عملے کی حفاظتی کی ضمانت اور اشیائے ضروریہ کی نقل و حمل کے دوبارہ آغاز کے لئے  تمام ممکنہ  اور قابلِ عمل سفارتی و سیاسی اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا۔

تجارتی جہازوں پر ایرانی حملوں اور مزید حملوں کے خدشے نے، خلیج کو دنیا کے باقی سمندروں سے جوڑنے والی  اس آبی گزرگاہ پر تقریباً تمام ٹریفک روک دی ہے ۔ نتیجتاً تیل کے عالمی بہاؤ کا ایک اہم راستہ بند ہو گیا اور تیل کی قیمتیں بلند ہو گئی ہیں۔

جمعرات کے اجلاس  میں امریکہ شامل نہیں ہے۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اس آبی  راستے کی حفاظت امریکہ کا کام نہیں ہے اور امریکی اتحادیوں کو کہا ہے کہ 'اپنا تیل خود حاصل کرو۔'

جنگ جاری ہے اور ایران بحری جہازوں کو اینٹی۔شپ میزائلوں، ڈرونوں اور بارودی سرنگوں کے ذریعے نشانہ بنا سکتا ہے لہٰذا  کوئی بھی ملک طاقت کے زور پر راستہ کھلوانے کی کوشش کرنے پر تیار نہیں ہے۔

اسٹارمر نے بروز بدھ جاری کردہ بیان میں کہا تھا  کہ جنگ  کے خاتمے کے بعد 'بحری سیر و سفر کی حفاظت' کی یقین دہانی پر بات چیت کے لئے غیر معین تعداد میں ممالک کے عسکری منصوبہ ساز جلد ہی ملاقات کریں گے ۔

اس دوران برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، کینیڈا، جاپان اور متحدہ عرب امارات سمیت 35 ممالک نے ایک بیان پر دستخط کئے ہیں ۔ بیان میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ بحری درّے سے  بندش اُٹھا لے ۔ علاوہ ازیں اس بحری  راستے کے ذریعے 'محفوظ سفر کو یقینی بنانے کی مناسب کوششوں میں حصہ ڈالنے' کا عہد بھی  کیا گیا ہے۔

جمعرات کے اجلاس کو ایک ابتدائی قدم سمجھا جا رہا ہے۔ اجلاس  کے بعد، تفصیلات طے کرنے کے لئے، حکام کے درمیان   عملی سطح کی ملاقاتیں ہوں گی ۔

اسٹارمر نے کہا ہے  کہ آبنائے ہُرمز کی بحالی آسان نہیں ہوگی۔ اس کام کے لئےبحری صنعت  کی شرکت داری کے ساتھ ساتھ  'مشترکہ فوجی قوت اور سفارتی محاذ' کی بھی ضرورت ہوگی۔

بین الاقوامی کوششوں سے متعلق یہ سوچ، یوکرین جنگ میں متوقع فائر بندی کے بعد یوکرین کی سلامتی کے ساتھ تعاون کی خاطر، برطانیہ اور فرانس کی رہنمائی میں قائم کئے گئے بین الاقوامی رضاکار اتحاد کی یاد تازہ کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ  بین الاقوامی رضاکار اتحاد  ٹرمپ انتظامیہ کو یہ دِکھانے کی ایک  کوشش تھی کہ یورپ اپنی سلامتی کے لیے زیادہ کردار ادا کرنے پر تیار ہے۔

ٹرمپ کے امریکہ کو نیٹو سے نکالنے سے متعلقہ بیان نے برّاعظم یورپ میں زیادہ مضبوط دفاعی کوششوں  کی عاجلیت کی  سوچ  پختہ کر دی ہے۔

دریافت کیجیے
صدر ایردوان : "ہم نے اپنے دوستوں اور دشمنوں کو خطے میں عدم استحکامی برداشت نہ کرنے کا پیغام دیا ہے
"دست خدا" گول میں زیر استعمال گیند 33٫5 لاکھ ڈالر میں فروخت
جنوبی تھائی لینڈ میں چار صوبوں میں 70 سے زیادہ مقامات پر آتشزدگی اور بم حملے
اسرائیلی فوج نے تین سالہ جنگ میں 30 سال کے استعمال کے لائق گولیاں استعمال کی ہیں
امریکہ میں، 75 ممالک کے شہریوں پر عائد کردہ امیگرینٹ ویزے پر پابندی کالعدم قرار
امریکہ، ایران کے خلاف ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ میں داخل ہو گیا ہے: بیسنٹ
اسرائیلی فوج کی جنوبی شام میں  ایک نئی فوجی کارروائی
غیر قانونی اسرائیلی آباد کاروں نے قصرہ میں تین فلسطینی گھروں کو گھیرے میں لے لیا
کینیڈا ہماری ریاست بنے بغیر تمام فوائد چاہتاہے:ٹرمپ
ہمسایہ ممالک امریکہ کا آلہ کار نہ بنیں ورنہ انجام ٹھیک نہ ہوگا:ایران
"اسرائیل پر پابندی ختم "کولومبیا کوئلہ برآمد کرےگا
جب تک اقتدار پر ہوں فلسطینی ریاست کا قیام ممکن نہیں ہوگا:نیتن یاہو
ایران ' نہ جنگ ، نہ امن' کی صورتحال کا خاتمہ چاہتا ہے:پزشکیان
اسرائیلی فوجی حکام نیتن یاہو انتخابات میں تاخیر کرنے کے لیے تشدد میں اضافے کی کوشش کر سکتے ہیں: رپورٹ
قالیباف: ہمیں ہمسایہ ممالک سے سیکیورٹی اور اقتصادی تعاون کے پیغامات موصول ہوئے ہیں