امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے سوئٹزرلینڈ کا اپنا دورہ موخر کر دیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق ایران کے ساتھ ہونے والی تکنیکی بات چیت کے انتظامات ابھی مکمل نہیں ہو سکے ہیں۔
ایک ترجمان نے جمعرات کو بتایا کہ امریکی نائب صدر آج رات روانہ نہیں ہو رہے ہیں۔
یاد رہے کہ جے ڈی وینس کو ایران کے ساتھ معاملات آگے بڑھانے کے لیے سوئٹزرلینڈ جانا تھا۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ نائب صدر پہلے ہی پریس کانفرنس میں بتا چکے ہیں کہ بات چیت کے منصوبے ابھی حتمی نہیں ہوئے ، امریکی وفد جانے کے لیے بالکل تیار ہے، لیکن ان مذاکرات کے انتظامات کبھی بھی آسان یا یقینی نہیں ہوتے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ بات چیت جلد از جلد شروع ہو جائے گی۔
اس سے پہلے جمعرات کو جے ڈی وینس نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ وہ سوئٹزرلینڈ جانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ایران کے ساتھ تکنیکی بات چیت اس ہفتے کے آخر میں شروع ہو سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ معاملات طے کرنا آسان نہیں ہے، اس لیے وقت تبدیل بھی ہو سکتا ہے۔
دوسری طرف، ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ ایرانی وفد کے سوئٹزرلینڈ جانے کے بارے میں ابھی کچھ بھی طے نہیں ہوا ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای، جو اپنے والد علی خامنہ ای پر امریکی اور اسرائیلی فضائی حملے کے بعد ایران کے رہبر اعلی بنے ہیں انہوں نے ایک تحریری بیان جاری کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ الگ نظریہ رکھنے کے باوجود انہوں نے اس معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔
انہوں نے یہ اجازت ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور دیگر حکام کے اس وعدے پر دی ہے کہ وہ ایرانی قوم کے حقوق کا تحفظ کریں گے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کے ساتھ آمنے سامنے بات چیت کا مطلب دشمن کی بات ماننا نہیں ہے۔
جمعہ کے دن ایران کے اہم مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پر وارننگ دی کہ اگر دوسری طرف سے معاہدے کی خلاف ورزی یا بدتمیزی کی گئی، تو دشمن کو سخت جواب دیا جائے گا۔
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی سوئٹزرلینڈ کا اپنا دورہ ملتوی کر دیا تھا۔
پاکستانی حکام وہاں معاہدے پر دستخط کی ایک تقریب کی میزبانی کرنے والے تھے۔
حکام کے مطابق یہ دورہ اس لیے ملتوی ہوا کیونکہ امریکہ اور ایران پہلے ہی اس معاہدے پر دستخط کر چکے ہیں۔







