ستمبر 2025 میں برطانیہ کے فلسطین کو سرکاری طور پر تسلیم کرنے کے بعد ، لندن میں فلسطینی مشن کے دفتر کو باضابطہ طور پر سفارتخانے کا درجہ دے دیا گیا ہے ۔
فلسطینی مشن کا نیا نام "ایمبیسی آف دی اسٹیٹ آف فلسطین" یعنی "ریاستِ فلسطین کا سفارتخانہ" ہو گیا ہے۔
5 جنوری سے اس حیثیت کے باقاعدہ اجراء کے بعد سےیہ پیش رفت دونوں ریاستوں کے درمیان مکمل سفارتی تعلقات کے قیام کی طرف ایک سرکاری قدم کی حیثیت رکھتی ہے۔
یہ قدم آسٹریلیا اور کینیڈا سمیت بعض دیگر ممالک کے فلسطین کو تسلیم کرنے کے بعد اُٹھایا گیا ہے۔
برطانیہ میں ریاستِ فلسطین کے سفیر 'حسام زملوط' نے سوشل میڈیا سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ فلسطینی مشن کے درجے کی سفارتخانے میں تبدیلی برطانیہ۔فلسطین تعلقات میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ ، فلسطینی عوام کے آزادی اور حقِ خودارادیت کےطویل سفرِ میں ایک 'سنگِ میل' ہے۔
زملوط نے مزید کہا ہے کہ "برطانوی عوام کی یکجہتی نے ہمیں اس مقام پر پہنچنے میں مدد کی ہے اور یہ قدم آئندہ کے طویل راستے کے حوالے سے نہایت اہم ہے"۔
برطانیہ کے مشرقِ وسطیٰ کے وزیر' ہیِمش فالکنر' نے کہا ہےکہ" اس فیصلے کا مقصد دو ریاستی حل کی اطلاقی حیثیت کو تحفظ دینا اور اسرائیلی و فلسطینی عوام کے لیے امن کے ایک پائیدار راستے کو تخلیق کرنا ہے"۔
فالکنر نے لندن میں فلسطین سفارتخانے کے افتتاح کی تصدیق کی اور باہمی تعلقات کے سرکاری حیثیت اختیار کرنے کا خیرمقدم کیا ہے۔
انہوں نے غزہ میں جاری انسانی بحران پر بھی بات کی، امداد تک رسائی میں کچھ پیش رفت کا ذکر کیا اور کہا ہے کہ "اب پہلے کی نسبت زیادہ ٹرک غزہ میں داخل ہو رہے ہیں اور یہ بات خوش آئند ہے۔ مگر اہم گذرگاہیں ابھی بھی بند ہیں، قافلے واپس موڑے جا رہے ہیں، طبی اور پناہ کا سامان روکا جا رہا ہے اور سول تنظیموں پر پابندیاں لگائی جا رہی ہیں"۔
فلسطینی مشن کی سفارتخانے میں تبدیلی برطانیہ کے فلسطینی حکام کے ساتھ نئے روابط کی عکاسی کے ساتھ ساتھ غزہ میں انسانی ضروریات کو پورا کرنے میں روزِ اوّل سے درپیش مسائل کو بھی اجاگر کرتی ہے۔











