شمالی کوریا کے صدر کم جونگ اُن نے کہا ہےکہ ہمارا ملک روس کی پالیسیوں کی حمایت جاری رکھے گا۔
شمالی کوریا کی سرکاری خبر ایجنسی KCNA کے مطابق صدر کم جونگ اُن نے روس کے وزیر دفاع آندرے بیلوسوف کے ساتھ ملاقات میں بین الاقوامی سیاسی صورتحال پر بات چیت کی ہے۔ ملاقات سے بعد جاری کردہ بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ شمالی کوریا روس کی پالیسیوں کی حمایت کرتا رہے گا۔
آندرے بیلوسوف سمیت ایک وفد نے، روس کے علاقے کرسک میں جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے شمالی کوریائی فوجیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لئے منعقدہ، یادگاری تقریب میں شرکت کی۔
KCNA کے مطابق تقریب سےخطاب میں کم نے کہا ہے کہ "شمالی کوریا کی حکومت روس کی ان تمام پالیسیوں کی حمایت جاری رکھے گی جن کا تعلق خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی سے متعلقہ مفادات کے دفاع سے ہے"۔
دونوں ممالک نے 2024 میں باہمی دفاعی معاہدہ کیا تھا اور شمالی کوریا نے کرسک میں روسی افواج کی صف سے یوکرین کے خلاف لڑنے کے لیے تقریباً 14,000 فوجی بھیجے تھے۔
جنوبی کوریا، یوکرین اور مغربی حکام کے مطابق جھڑپوں میں شمالی کوریا کے 6,000 سے زائد فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔
تعلقات مزید گہرے ہو رہے ہیں
کم نے روسی پارلیمنٹ کے اسپیکر ویاچسلاف وولودین سے بھی ملاقات کی اور اسٹریٹجک شراکت داری کے معاہدے کے تحت دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
یہ عزم روس کے صدر ولادیمیر پوٹن کے خط میں بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ "روس اور شمالی کوریا مشترکہ کوششوں کے ذریعے اپنی جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط کرتے رہیں گے۔"
کم نے کرسک کے علاقے میں لڑنے والے شمالی کوریائی فوجیوں کو قربانی اور وفاداری کی علامت بنانے کے لئے ایک تواتر سے اقدامات کیے ہیں۔
اتوار کے روز یادگار کے سامنے اپنے ہاتھ سے لکھے گئے پیغام میں کم نے کہا ہے کہ "شہداء کی روحیں اور وہ اقدار جن کے دفاع کے لئے انہوں نے جانیں دیں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔"











