دنیا
3 منٹ پڑھنے
ایران نے پاکستان میں ثالثی مذاکرات کی ناکامی کا الزام امریکہ پر عائد کیا
امریکہ کے نقطِ نظر کی وجہ سے گزشتہ دورِ مذاکرات، پیش رفت کے باوجود، حد سے زیادہ مطالبات کی بنا پر اپنے مقاصد تک پہنچنے میں ناکام رہے۔
ایران نے پاکستان میں ثالثی مذاکرات کی ناکامی کا الزام امریکہ پر عائد کیا
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ میں جنگ بندی اب تک برقرار ہے، لیکن اس کے معاشی جھٹکے عالمی سطح پر گونجتے رہے ہیں۔ / Reuters

ایران کے اعلیٰ سفارتکار نے تیز رفتار سفارتی دورے کے سلسلے میں روس میں پہنچتے ہی مذاکرات کی ناکامی کا الزام واشنگٹن پر لگایا، جبکہ  جنگ کے فریقین  کے درمیان براہِ راست گفت و شنید بظاہر معطل لگ  رہی ہے۔

وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے سینٹ پیٹرزبرگ میں یہ بیانات دیے، جہاں وہ متوقع طور پر روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کریں گے، اور گزشتہ چند روز کے دوران  ثالث پاکستان کے دوروں کے درمیان عمان کا ایک دورہ بھی شامل تھا۔

اسلام آباد نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان پہلی اور واحد ناکام مذاکراتی دور کی میزبانی کی تھی، اور عراقچی کے دورے نے ہفتے کے آخر میں نئی بات چیت کی امیدیں بڑھا دیں، جب تک کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جارڈ کشنر کے طے شدہ دورے کو منسوخ نہیں کر دیا۔

عراقچی نے پیر کو کہا کہ "امریکہ کے نقطِ نظر کی وجہ سے گزشتہ دورِ مذاکرات، پیش رفت کے باوجود، حد سے زیادہ مطالبات کی بنا پر اپنے مقاصد تک پہنچنے میں ناکام رہے۔"

اپنے نمائندوں کے دورے منسوخ کرنے کے بعد ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا کہ اگر ایران بات چیت چاہتا ہے تو "وہ ہمارے پاس آ سکتا ہے، یا ہمیں کال کر سکتا ہے"، تاہم انہوں نے کہا کہ اس منسوخی کا مطلب  جنگ کی طرف واپسی نہیں  ہے۔

پسِ پردہ کوششوں کے جاری رہنے کی علامت کے طور پر فارس نیوز ایجنسی نے کہا کہ ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکیوں کو "تحریری پیغامات" پہنچائے جن میں سرخ حدود واضح کی گئی تھیں، جن میں ایٹمی معاملات اور آبنائے  ہرمز شامل ہیں۔ تاہم فارس نے کہا کہ یہ پیغامات باضابطہ مذاکرات کا حصہ نہیں تھے۔

امریکی میڈیا آکسیوس نے ایک امریکی عہدیدار اور دو دیگر ذرائع کے حوالے سے اتوار کو رپورٹ کیا کہ ایران نے جنگ ختم کرنے کے لیے ایک نئی تجویز بھیجی ہے جس کا محور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور وہاں امریکی بحری محاصرے کا خاتمہ تھا، جبکہ نیوکلیئر مذاکرات بعد کے مرحلے کے لیے مؤخر کرنے کی بات کی گئی تھی۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا نے اس رپورٹ کا حوالہ دیا مگر اسے رد نہیں کیا۔

عالمی مسئلہ

عمان کے دورے کے دوران ہرمز کا موضوع ایجنڈے میں شامل تھا، جو ایران کے مقابل ساحل پر واقع ہے۔ عراقچی نے سینٹ پیٹرزبرگ  میں کہا کہ "آبنائےہرمز کے ذریعے محفوظ گزر ایک اہم عالمی معاملہ ہے۔ فطری طور پر، اس گزر گاہ  کےدو ساحلی ممالک ہونے کے ناطے ہمیں ایک دوسرے سے بات کرنی چاہیے تاکہ ہمارے مشترکہ مفادات محفوظ رہیں۔"

روسی اور ایرانی سرکاری میڈیا نے حکومتی عہدیداروں کے حوالے سے تصدیق کی کہ عراقچی پوتن سے بات کریں گے۔

تاہم ایران کی سپاہِ پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ وہ اپنے معیشت کو ہلا دینے والے محاصرے کو ختم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے، اور کہا کہ ہرمز پر کنٹرول اور امریکہ پر اپنے روک تھام کے اثرات کے سائے کو برقرار رکھنا تہران کی حتمی حکمتِ عملی ہے۔

 

دریافت کیجیے
صدر ایردوان : "ہم نے اپنے دوستوں اور دشمنوں کو خطے میں عدم استحکامی برداشت نہ کرنے کا پیغام دیا ہے
"دست خدا" گول میں زیر استعمال گیند 33٫5 لاکھ ڈالر میں فروخت
جنوبی تھائی لینڈ میں چار صوبوں میں 70 سے زیادہ مقامات پر آتشزدگی اور بم حملے
اسرائیلی فوج نے تین سالہ جنگ میں 30 سال کے استعمال کے لائق گولیاں استعمال کی ہیں
امریکہ میں، 75 ممالک کے شہریوں پر عائد کردہ امیگرینٹ ویزے پر پابندی کالعدم قرار
امریکہ، ایران کے خلاف ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ میں داخل ہو گیا ہے: بیسنٹ
اسرائیلی فوج کی جنوبی شام میں  ایک نئی فوجی کارروائی
غیر قانونی اسرائیلی آباد کاروں نے قصرہ میں تین فلسطینی گھروں کو گھیرے میں لے لیا
کینیڈا ہماری ریاست بنے بغیر تمام فوائد چاہتاہے:ٹرمپ
ہمسایہ ممالک امریکہ کا آلہ کار نہ بنیں ورنہ انجام ٹھیک نہ ہوگا:ایران
"اسرائیل پر پابندی ختم "کولومبیا کوئلہ برآمد کرےگا
جب تک اقتدار پر ہوں فلسطینی ریاست کا قیام ممکن نہیں ہوگا:نیتن یاہو
ایران ' نہ جنگ ، نہ امن' کی صورتحال کا خاتمہ چاہتا ہے:پزشکیان
اسرائیلی فوجی حکام نیتن یاہو انتخابات میں تاخیر کرنے کے لیے تشدد میں اضافے کی کوشش کر سکتے ہیں: رپورٹ
قالیباف: ہمیں ہمسایہ ممالک سے سیکیورٹی اور اقتصادی تعاون کے پیغامات موصول ہوئے ہیں