رائے
تجزیات
7 منٹ پڑھنے
آبنائے ہرمز سے رسد کے مسائل برقرار ہیں تو ترکیہ، توانائی کی ترسیل کے معاملے میں نمایاں بن رہا ہے
رک وزیر توانائی و قدرتی وسائل، الپ ارسلان بایئراکتارنے عراق-ترکیہ خام تیل پائپ لائن کی صورتحال کا حوالہ دیا جو کرکوک سے جیہون تک پھیلی ہوئی ہے۔
آبنائے ہرمز سے رسد کے مسائل برقرار ہیں تو ترکیہ، توانائی کی ترسیل کے معاملے میں نمایاں بن رہا ہے
فائل: 2 اگست 2025 کو ترکیہ اور آذربائیجان سے شام کو قدرتی گیس کی برآمدات کے آغاز کے بعد ایک بجلی گھر کا ڈرون سے لیا گیا منظر۔ / Reuters
3 گھنٹے قبل

امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایران کی طرف سے آبنائے  ہرمز میں بعض پابندیوں اور عالمی توانائی کی ترسیل میں خلل کے باعث متبادل ٹرانزٹ راہداریوں کی تلاش میں مختلف پائپ لائن اور راستوں کے ذریعے ترکیہ نمایاں بن  رہا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کی وجہ سے سمندری آمد و رفت اور ہرمز کے راستے تیل کی نقل و حمل شدید متاثر ہوئی ہے۔ اگرچہ اس واٹر وے کو باضابطہ طور پر بند نہیں کیا گیا، ایرانی حکام نے عبوری راستوں پر سخت کنٹرول اور پابندیاں عائد کی ہیں۔

کچھ مخصوص ممالک کے جہازوں کو ہی گزرنے کی اجازت ہے، جبکہ دیگر صرف مخصوص شرائط کے تحت عبور کر سکتے ہیں۔ اس نے خطے میں بحری آمدورفت کو  معمول سے نمایاں طور پر  دور کر دیا ہے۔

خطے میں تناؤ کے بڑھنے سے ہرمز میں خلل پیدا ہوا ہے، جہاں سے عالمی تیل کی تجارت کا تقریباً 20 فیصد  سر انجام پاتا ہے۔ ٹینکر ٹریفک سست پڑ گئی ہے، بعض دنوں میں عبوری گزر کم ہو کر صفر تک پہنچ گیا اور مجموعی ٹریفک 90 فیصد سے زائد کم ہو گئی ہے۔

ہرمز کے ذریعے یومیہ 15 ملین بیرل خام تیل کی ترسیل اب خطرے میں ہے، جبکہ بڑھتی ہوئی انشورنس لاگت اور سلامتی کے خدشات جہاز رانی پر اضافی دباؤ ڈال رہے ہیں۔

ان واقعات نے تیل کی قیمتوں کو تقریباً 70 ڈالر سے 120  ڈالر تک  بڑحا  دیا، جو کہ قریب 70 فیصد اضافے کے مترادف ہے۔ قدرتی گیس کی جانب بڑھوتری اور بھی تیز رہی۔ یورپ کے بینچ مارک TTF گیس کنٹریکٹس تقریباً €30 سے بڑھ کر €60-€70 کے دائرے میں پہنچ گئے۔

انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (IEA) کے رکن ممالک کے ہنگامی آئل ریزروز سے 400 ملین بیرل جاری کرنے کے فیصلے نے مارکیٹ میں اضافی رسد کا اشارہ دیا، تاہم خطے میں جنگ کے تیزی سے پھیلنے کے خدشات کے درمیان اتھل پتھل جاری ہے۔

قدرتی گیس کے شعبے میں اسٹوریج کے استعمال میں اضافہ، اسپاٹ LNG کی سپلائی تیز کرنا، اور مانگ کا انتظام جیسی تدابیر اپنائی گئی ہیں، مگر سپلائی کے جاری خطرات کی وجہ سے قیمتیں بلند سطح پر برقرار ہیں۔

متبادل راستے موجود ہیں، مگر صلاحیت محدود

رسد کی سلامتی کے خدشات بڑھنے اور موجودہ اقدامات مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال کو محدود کرنے میں ناکافی ثابت ہونے کے باعث، ہرمز پر انحصار کم کرنے والے متبادل راستوں کی تلاش تیز ہو گئی ہے۔

IEA کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں ہرمز کے راستے روزانہ تقریباً 20 ملین بیرل تیل گزرا کرتا تھا۔

ہرمز کو بائی پاس کرنے والی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ذریعے متبادل پائپ لائن کی صلاحیتیں محدود ہیں، جو روزانہ تقریباً 3.5 ملین سے 5.5 ملین بیرل کے درمیان ہیں۔

متحدہ عرب امارات روزانہ تقریباً 1.1 ملین بیرل ابو ظبی-فجیرہ پائپ لائن کے ذریعے برآمد کرتا ہے، اور اس میں اضافی اندازاً 700,000 بیرل کی  گنجائش موجود ہے۔

سعودی عرب کا ایسٹ-وسٹ خام تیل پائپ لائن 5 ملین بیرل یومیہ کی صلاحیت رکھتا ہے۔ موجودہ استعمال تقریباً 2 ملین بیرل کے بعد اضافی دستیاب صلاحیت کا اندازہ  یومیہ 3 ملین سے 5 ملین بیرل کے درمیان لگایا جاتا ہے۔

ابقائق-یانبوپائپ لائن، جو ایسٹ-وسٹ پائپ لائن کے متوازی ہے اور  مائع قدرتی گیس کی ترسیل کرتی  ہے، اس وقت تقریباً 300,000 بیرل فی دن کی پوری صلاحیت پر کام کر رہی ہے۔

قطر، عراق سے ترکیہ تک پائپ لائن کی تجویز

ترک وزیر توانائی و قدرتی وسائل، الپ ارسلان بایئراکتارنے عراق-ترکیہ خام تیل پائپ لائن کی صورتحال کا حوالہ دیا جو کرکوک سے جیہون تک پھیلی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا، "اس لائن کی صلاحیت 1.5 ملین بیرل ہے۔ ہم اس راستے روزانہ 1.5 ملین بیرل  کی ترسیل  کر سکتے ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ ترکیہ نے عراق کے علاوہ دیگر منصوبوں کو بھی ایجنڈے پر لایا ہے۔

انہوں نے کہا"ذرا تصور کریں کہ قطری گیس پائپ لائن کے ذریعے ترکیہ تک پہنچے، پھر ترکیہ کے ذریعے یورپ تک پہنچے۔ فرض کریں آپ کی ایل این جی تنصیبات پر حملہ ہو جائے اور آپ کی ایل این جی برآمدات رک جائیں۔ آپ پہلے ہی ہرمز کے ذریعے حرکت نہیں کر سکتے۔ ایک پائپ لائن جو ایک مخصوص مقدار میں گیس ترکیہ اور یورپ تک پہنچائے، ایک اہم منصوبہ بن سکتا ہے۔"

ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کے متبادل کے طور پر پائپ لائن کے ذریعے تیل کو ترکیہ کے شہر خطائےتک پہنچانا طویل مدتی آپشنز میں سے ایک ہے جس پر  غور  کیا جا رہا ہے۔

ترکیہ توانائی کی راہداری  کے طور پر ابھر رہا ہے

اگرچہ تیل کے لیے جزوی متبادل موجود ہیں، ایل این جی زیادہ کمزور دکھائی دیتا ہے۔ ہرمز ایل این جی آمدروفت کے لیے ایک اہم گزرگاہ بنا ہوا ہے، اور ماہرین کا ماننا ہے کہ گیس کو قلیل مدت میں متبادل راستوں کی طرف موڑنا آسان نہیں ہوگا۔

اس منظرنامے میں ترکیہ یورپ تک غیر ہرمز وسائل پہنچانے کے لیے ایک تکمیلی توانائی راہداری کے طور پر سامنے آتا  ہے۔ کرکوک-جیہون آئل پائپ لائن کے ذریعے برآمدات، جو 17 مارچ کو دوبارہ شروع ہوئی تھیں، کو ابتدا میں یومیہ  170,000 بیرل تک بڑھانے اور بعد ازاں 250,000 تک لے جانے کا منصوبہ ہے، یہ  خام کو بحیرہ روم تک پہنچانے میں ترکیہ کے کردار کو مستحکم کرے گا۔

ترکیہ، روسی گیس کی یورپ تک ترسیل کے لیے بھی اہم راستہ برقرار رکھتا ہے۔ TurkStream کے ذریعے  ترسیل میں مارچ میں سالانہ بنیاد پر 22 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 55 ملین مکعب میٹر فی دن تک پہنچ گئی۔

یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ ہرمز کے  دھچکے کی وجہ سے متبادل راستوں کی تلاش تیز ہونے کے ساتھ، ترکیہ توانائی تجارت میں ایک زیادہ نمایاں کھلاڑی بن سکتا ہے۔

ترکیہ وسط مدتی متبادل پیش کر سکتا ہے

جرمن انسٹی ٹیوٹ فار اکنامک ریسرچ کے انرجی، ٹرانسپورٹ اور ماحولیاتی شعبے کی سربراہ کلاڈیا کیمفرٹ نے انادولو ایجنسی کو بتایا کہ ہرمز میں طویل مدت کا خلل عالمی تیل اور ایل این جی کی قیمتوں کو بڑھا دے گا۔

انہوں نے کہا کہ رسد کے جاری خطرات قیمتوں کو بلند رکھ سکتے ہیں، اسٹریٹجک ریزروز پر انحصار کو گہرا کر سکتے ہیں اور توانائی سیکیورٹی کے خدشات کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔

کیمفرٹ نے کہا کہ متبادل راستوں، خاص طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ذریعے جانے والی پائپ لائنوں کی برآمدی صلاحیت محدود ہے، اور یہ بڑی نوعیت کے خلل کا ازالہ کرنے کے لیے ناکافی ہیں، جس سے عالمی بازار ساختی طور پر کمزور رہیں گے۔

انہوں نے نوٹ کیا کہ ترکیہ وسطی مدت  میں قفقاز خطے، مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کو جوڑنے والے ٹرانزٹ کوریڈور کے طور پر اپنا کردار مضبوط کر کے ایک متبادل فراہم کر سکتا ہے۔

کیمفرٹ نے کہا کہ موجودہ انفراسٹرکچر کی محدود سطح  ترکیہ کو قلیل مدت میں بڑے سپلائی خلل کا ازالہ کرنے کا موقع نہیں دیتی ، اس کا مطلب ہے کہ اس کا متبادل راہداری کے طور پر کردار زیادہ تر اسٹریٹجک اور وسط مدتی ہی رہے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہرمز میں عدم استحکام  سرعت سے خلیجی توانائی پر انحصار کم کر دے گا، جس کے بنیادی فائدہ اٹھانے والے امکانات میں قابلِ تجدید توانائی کا فروغ، ایل این جی فراہم کنندگان خاص طور پر امریکہ، ناروے اور شمالی افریقہ جیسے خطوں سے پائپ لائن گیس، اور ابھرتے ہوئے نئے ٹرانسپورٹ کوریڈور شامل ہوں گے۔

 

دریافت کیجیے
ایران کا اسرائیل پر تازہ  میزائلوں سے حملہ
حزب اللہ:  اسرائیلی فوجیوں اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا ہے
ٹرمپ، یسوع مسیح سے مشابہہ ہیں: پاؤلا وائٹ۔کین
بحیرہ ملوکا میں 7٫8 شدت کا زلزلہ،ہمسایہ ممالک میں سونامی انتباہ
سینئر ایرانی عہدیدار امریکی-اسرائیلی حملے میں شدید زخمی
پاکستان۔افغانستان مذاکرات دوبارہ شروع ہو گئے
انڈونیشیا:اسرائیل کی باتوں پر بھروسہ نہیں،بم دھماکے کی تفتیش کروائی جائے
کریمیا میں روسی فوجی طیارے کا حادثہ، سوار تمام افراد ہلاک
پاکستانی فوج کا آپریشن ، 13 دہشت گرد ہلاک
ہرمز کھلوانے کےلیے فوجی کاروائی کی تیاریاں،ابو ظہبی کے شامل ہونے کاامکان
ٹرمپ، جنگ ختم کرنے کا سفارتی راستہ تلاش کریں: پوپ لیو
ترکیہ نے کوسووا کو شکست دے کر 2026 عالمی فٹ بال کپ ٹورنا منٹ کے لیے کوالیفائی کر لیا
ترکیہ: اسرائیلی قانون غیر آئینی اور نسلی ہے
دبئی:کویتی آئل ٹینکر پر ایرانی ڈرون کا حملہ
امریکہ-ایران معاہدہ ہو بھی گیا تب بھی لبنان پر حملے نہیں رکیں گے:نیتن یاہو