مشرق وسطی
3 منٹ پڑھنے
قطر: غزہ میں امن مذاکرات کا 'دوسرا مرحلہ' شروع کیا جائے
ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں فریقین کو بہت جلد دوسرے مرحلے کی طرف بڑھانا چاہیے، لاشوں کی واپسی کو دوسرے مرحلے کے راستے میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے: ماجد الانصاری
قطر: غزہ میں امن مذاکرات کا 'دوسرا مرحلہ' شروع کیا جائے
(فائل) قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری دوحہ، قطر میں وزارت خارجہ میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران خطاب کر رہے ہیں۔ / Reuters

غزہ مذاکرات کے ثالث ملک 'قطر' نے کہا ہے کہ"ہم امید کرتے ہیں کہ اکتوبر میں طے پانے والی جنگ بندی کے بعد اسرائیل اور حماس کو، فلسطین میں امن معاہدے کے، نئے مذاکراتی مرحلے تک پہنچایا جا سکتا ہے۔

قطر  وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے منگل کو جاری کردہ بیان میں  کہا  ہے کہ "ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں فریقین کو بہت جلد دوسرے مرحلے کی طرف دھکیلنا چاہیے۔ یہ چیز بلاشبہ صورتحال کو پیچیدہ بنانے والے موضوعات کا بھی احاطہ کرتی ہے مثلاً پیلے خط کے پیچھے واقع سرنگوں  میں موجود جنگجو اور ہر اگلے دن پیش آنے والے واقعات وغیرہ وغیرہ"۔

نام نہاد 'پیلا خط' اُس نقطے کی نشان دہی کرتا ہے کہ جہاں تک غزہ کے اندر اسرائیلی فوج نے پس قدمی کی ہے۔ حماس کے درجنوں جنگجو اس خط کے پار سرنگوں میں محصور ہیں اور اسرائیل کا دعوی ہے کہ وہ انہیں نشانہ بنا رہا ہے۔

قطر نے امریکہ، ترکیہ اور مصر کے ساتھ مل کر غزہ میں ایک ایسی جنگ بندی کو ممکن بنایا ہے جو  طویل عرصے سے  طے نہیں ہو پا رہی تھی۔ جنگ بندی معاہدہ  10 اکتوبر کو نافذ ہوا اور  تل ابیب کی جانب سے فلسطینی علاقے پرمسلّط کردہ  دو سالہ نسل کشی جنگ کو روک دیا۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے پیش کئے گئے غزہ امن منصوبے کے پہلے مرحلے کے دوران فلسطین تحریکِ مزاحمت 'حماس' اور اس کے حلیفوں کو 20 زندہ سمیت  تمام 48 اسرائیلی مغویوں کو واپس کرنے کاپابند کیا گیا تھا۔

https://www.trtworld.com/article/185d9156439d

معاہدے کے تحت 48 اسرائیلی قیدیوں کے بدلے میں  اسرائیل کو 2,000 فلسطینی قیدی رہا کرنا تھے ۔ ان قیدیوں میں  سے 250 عمر قید کاٹ رہے تھے  اور 1,700 کو اکتوبر 2023 کے بعد سے حراست میں لیا گیا  تھا۔

اسرائیلی قیدیوں کی اکثریت  واپس کر دی گئی ہے لیکن 10,000 سے زائد فلسطینی ابھی بھی اسرائیلی جیلوں میں بند ہیں۔

رین گویلی اور سدھیسک رنتھالک  کی لاشوں کے علاوہ  سب اسرائیلی قیدی واپس کر دیئے گئے ہیں۔تاہم،  اسرائیل نے  فلسطین تحریکِ مزاحمت 'حماس' کو لاشوں کی واپسی میں  سستی برتنے کا قصوروار ٹھہرایا  ہے۔

حماس کا کہنا ہے کہ لاشوں کی بازیابی کا عمل سست رہا کیونکہ لاشیں دو سالہ جنگ کے نتیجے میں جمع ہونے والے ڈھیروں  ملبے کی تہوں میں  دب گئیں تھیں۔

قطر  وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے بھی لاشوں کی واپسی کے حوالے سے کہا ہے کہ "جیسا کہ ہم  ہمیشہ  سے کہہ رہے ہیں کہ  غزہ کی لاجسٹک صورتحال یقیناً اس نتیجے تک پہنچنے کو مشکل بنا دے گی۔ لیکن لاشوں کی واپسی کو جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے راستے میں  رکاوٹ نہیں بننا چاہیے"۔

ماہِ نومبر میں اقوام متحدہ کی حمایت حاصل کرنے والے دوسرے مرحلے کے تحت اسرائیلی فوج علاقے میں اپنی پوزیشنوں سے پسپا ہو گی، ایک عبوری حکومت  غزہ کا انتظام سنبھالے گی اور علاقے میں ایک بین الاقوامی استحکام فورس تعینات کی جائے گی۔

دریافت کیجیے
روسی میزائل اور ڈراون حملوں میں کیف کے قرب و جوار میں 14 افراد ہلاک، درجنوں زخمی
فلپائن میں 6.3 کی شدّت کا زلزلہ
چین کے شاانشی صوبے میں شدید بارشوں کے باعث ایک لاکھ 15 ہزار لوگوں کی نقل مکانی
ایران اور عمان آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر معاہدے کے قریب ہیں: رپورٹ
گوئٹے مالا: فیوگو آتش فشاں میں دھماکے
روسی علاقوں پر یوکرینی ڈراونز کی بارش، ماسکو پر حملے میں پانچ افراد ہلاک
نتن یاہو غزہ میں جنگ بندی یا ٹرمپ کے منصوبے کے تحت انخلاء کو مسترد کرتے ہیں: رپورٹ
امریکہ: 65,000 سے زیادہ شہری اپنے گھروں سے نکال گئے
شمالی کوریا: امریکہ اور اس کے اتحادی ایشیا-پیسیفک میں 'نئے سیکیورٹی بحران' کو ہوا دے رہے ہیں
ترکیہ خفیہ سروس کے چیف کی غزہ امن منصوبے پر بحث کرنے کے لیے حماس کے رہنما سے ملاقات
اسرائیلی فوج اور غیر قانونی آباد کاروں نے مغربی کنارے میں جولائی میں 2,256 حملے کیے
آسٹریلیا: ایچ فائیو برڈ فلو کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر پرندے ہلاک
ایران: عمان کے ساتھ مذاکرات آبنائے ہرمز  سے بحری آمدروفت کے موضوع پر مرکوز ہیں
اسد اقتدار کا خاتمہ شام سمیت خطے کےلیے ناگزیر تھا: احمد الشراع
یوکرین اور روس کے مابین حملوں میں شدت آگئی،متعدد ہلاکتیں