ہسپانوی وزیر اعظم پیدرو سانچیز نے گزشتہ روز مشرق وسطیٰ میں فوجی کشیدگی کے حوالے سے اندھے اور غلامانہ اتحاد کو سختی سے مسترد کیا اور اسرائیل، امریکہ اور ایران کے درمیان فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔
امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کیے گئے ایک ویڈیو خطاب میں سانچیز نے اسپین کی پوزیشن کو جنگ کے لیے حتمی نہیں قرار دیا۔
انہوں نے 2003 کے عراق پر حملے سے براہ راست مماثلت دیکھی اور خبردار کیا کہ آزورز جزائر کی ذہنیت کا انداز جو 2003 کے آزورز سمٹ کی طرف اشارہ کرتا ہے، جہاں امریکی صدر جارج ڈبلیو بش، برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر اور ہسپانوی وزیر اعظم جوزے ماریا ازنار نے ملاقات کی اور سفارت کاری کو مؤثر طریقے سے ترک کر کے صدام حسین کو عراق پر حملے سے پہلے آخری الٹی میٹم دیا ، یورپ کو "زیادہ غیر محفوظ دنیا" اور "بدتر زندگی" فراہم کرتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اسپین ایسے اقدامات میں شریک عمل نہیں ہوگا جو دنیا کے لیے نقصان دہ ہوں
سانچیز نے یہ بھی تصدیق کی کہ ہسپانوی فوج مسلسل کام کر رہی ہے تاکہ خطے کے شہریوں کے لیے انخلا کے طریقہ کار کو ہم آہنگ کیا جا سکے۔
انہوں نے اختتام پر کہا کہ ہمیں اپنے ملک کی معاشی، ادارہ جاتی اور میں کہوں گا اخلاقی طاقت پر مکمل اعتماد ہے اور کیونکہ ایسے لمحات میں ہم ہسپانوی ہونے پر پہلے سے زیادہ فخر محسوس کرتے ہیں۔
امریکہ اور اسپین کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے کیونکہ میڈرڈ نے نہ صرف ایران پر حملوں کی مذمت کی بلکہ واشنگٹن کو اسپین میں فوجی اڈوں کے ذریعے ایران پر حملے کرنے کی اجازت بھی نہیں دی۔
اس سے قبل ہسپانوی وزیر خارجہ ہوزے مانوئل الباریس نے قطعی طور پر انکار کیا تھا کہ اسپین نے ایران پر جاری امریکی-اسرائیلی حملے کے دوران اڈوں تک رسائی پر کشیدگی کے بعد امریکہ کے ساتھ فوجی تعاون پر اتفاق کیا ہے۔
کیڈینا ایس ای آر ریڈیو سے بات کرتے ہوئے الباریز نے وائٹ ہاؤس کے دعووں کی تردید کی اور زور دیا کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ اور ایران میں بمباری کے حوالے سے ہسپانوی حکومت کا مؤقف ہمارے اڈوں کے استعمال کے حوالے سے تبدیل نہیں ہوا۔
یہ تردید وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ کے بیانات کے بعد کی گئی ہے جنہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یورپی اتحادی کے ساتھ "تجارتی تعلقات ختم کرنے کی دھمکی کے بعد اسپین نے تعاون پر اتفاق کیا تھا۔
ٹرمپ کا الٹی میٹم اس وقت آیا جب میڈرڈ نے امریکہ کو ہسپانوی علاقے میں ایران پر حملے کرنے کے لیے اڈے استعمال کرنے سے روک دیا۔








