ریڈیو سویڈن کی پیر کے روز نشر کردہ خبر کے مطابق، سویڈن نے باقاعدگی سے سگریٹ نوشی کرنے والی آبادی کی شرح کو 5 فیصد سے کم کر کے عملاً 'سگریٹ سے پاک' ملک بننے کا ہدف حاصل کر لیا ہے۔
سویڈن کی الکحل اور منشیات سے متعلقہ اطلاعاتی کونسل نے تصدیق کی ہے کہ ملک نے 2025 کے لیے مقرر کردہ عوامی صحت کے طویل المدتی ہدف کو حاصل کر لیا ہے۔
کونسل کے مطابق، 1980 کی دہائی کے آغاز میں سویڈن کی 30 فیصد سے زیادہ آبادی روزانہ سگریٹ نوشی کرتی تھی۔
سگریٹ نوشی میں کمی کو کئی دہائیوں پر محیط عوامی صحت کی پالیسیوں اور بدلتی ہوئی سماجی عادات کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں آبادیاتی فرق کی جانب بھی توجہ دلائی گئی ہے، جس کے مطابق 50 سے 84 سالہ عورتیں اب بھی روزانہ سگریٹ نوشی کرنے والا سب سے بڑا گروہ ہیں۔ یہ گروہ کُل آبادی کا تقریباً 6 فیصد ہے۔
یہ بھی بتایا گیا کہ نئے نکوٹین مصنوعات کے استعمال میں حالیہ برسوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ایک نکوٹین کی 'وائٹ سنَس' نامی جنس کی فروخت 2021 سے 2024 کے درمیان 180 فیصد بڑھی، جبکہ الیکٹرانک سگریٹ کے استعمال میں اسی مدت کے دوران 640 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ نئی نکوٹین مصنوعات کے مُضر اثرات کے بارے میں معلومات محدود ہیں۔ بعض مطالعات سے یہ اشارہ بھی ملا ہے کہ الیکٹرانک سگریٹ کا استعمال پھیپھڑوں کی بعض بیماریوں کے خطرے میں اضافہ کر سکتا ہے۔







