دنیا
2 منٹ پڑھنے
امریکہ۔جنوبی کوریا مشترکہ فوجی مشقوں کا حجم کم کیا جائے: ٹرمپ
میں نے پیٹ ہیگسیتھ کو، جنوبی کوریا کے ساتھ طے شدہ، مشترکہ فوجی مشقوں کے حجم میں ’’نمایاں کمی‘‘ کرنے کی ہدایت دی ہے: ڈونلڈ ٹرمپ
امریکہ۔جنوبی کوریا مشترکہ فوجی مشقوں کا حجم کم کیا جائے: ٹرمپ
ٹرمپ اخراجات اور کم کے ساتھ تعلقات کے پیشِ نظر امریکا اور جنوبی کوریا کی محدود فوجی مشقوں کے خواہاں ہیں۔ / AP

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو جنوبی کوریا کے ساتھ طے شدہ مشترکہ فوجی مشقوں کے حجم میں ’’نمایاں کمی‘‘ کرنے کی ہدایت دی ہے۔

ٹرمپ نے اس فیصلے کی وجہ، بھاری مصارف اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے ساتھ اپنے تعلقات کو قرار دیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل سےجاری کردہ  پیغام میں انہوں نے کہا ہے کہ’’شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے ساتھ اپنے بہت اچھے تعلقات کے پیشِ نظر،  مجھے ماضی میں امریکہ کے   جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں میں شرکت پر رضامندی ظاہر کرنے پر  خوشی نہیں ہے‘‘۔

ٹرمپ نے کہا ہے کہ یہ فوجی مشقیں شمالی کوریا کی حکومت کو ایک ’’نامناسب اور مخاصمانہ‘‘ پیغام دیتی ہیں لہٰذا ان مشقوں کے حجم کو کم کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ’’یہ مشقیں نہ صرف بہت مہنگی ہیں اور ان اخراجات کا بڑا حصہ ہمیشہ کی طرح امریکہ برداشت کرتا ہےبلکہ یہ ایسے ملک کو مکمل طور پر نامناسب اور مخاصمانہ پیغام بھی دیتی ہیں جو اس وقت تک کوئی خطرہ نہیں بن رہا اور احترام پر مبنی رویہ برقرار رکھے ہوئے  ہے جب تک کہ ڈونلڈ جے ٹرمپ صدر ہیں۔‘‘

ٹرمپ نے کہا ہے  کہ فوجی مشقوں کو مکمل طور پر منسوخ کرنے کے لیے اب بہت دیر ہو چکی ہےاسی لیے میں نے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو ہدایت دی ہے کہ مشقوں کے دائرۂ کار کو ’’نمایاں طور پر کم‘‘ کیا جائے۔

ٹرمپ نے اس پیش رفت کو جنوبی کوریا کے ساتھ ہونے والے ایک اور حالیہ رابطے سے بھی جوڑتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے کچھ عرصہ قبل جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ سے پوچھا تھا کہ آیا سیول، واشنگٹن کے ساتھ ’’ایران کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے‘‘ کی کوششوں میں شامل ہوگا یا نہیں؟

 ٹرمپ کے مطابق، انہیں نفی میں جواب ملا تھا۔

دریافت کیجیے