مشرق وسطی
3 منٹ پڑھنے
"اسلام آباد مذاکرات"ایرانی وفد تاحال پاکستان نہیں پہنچ سکا
ایک رپورٹ میں ایرانی حکام کے بیانات کا بھی حوالہ دیا گیا، جس میں اشارہ کیا گیا  کہ مذاکرات میں مسلسل شرکت امریکی رویے میں تبدیلیوں پر منحصر ہے اور یہ کہ تہران دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات کو مسترد کرتا ہے
"اسلام آباد مذاکرات"ایرانی وفد تاحال پاکستان نہیں پہنچ سکا
ایران-امریکہ / AP

ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے رپورٹ کیا  ہے کہ ایرانی وفد اب تک پاکستان نہیں پہنچ سکا  ۔

نشریاتی ادارے نے کہاہے  کہ اب تک کوئی بھی ایرانی وفد اسلام آباد نہیں پہنچا۔

آئی آر آئی بی نے مزید کہا کہ متعدد میڈیا رپورٹس کہ ایرانی وفد پاکستان کا سفر کرے گا یا یہ کہ مذاکرات پیر کی شام یا منگل کی صبح طے تھے، غلط تھیں۔

رپورٹ میں اتوار کی شام ایرانی حکام کے بیانات کا بھی حوالہ دیا گیا، جس میں اشارہ کیا گیا  کہ مذاکرات میں مسلسل شرکت امریکی رویے میں تبدیلیوں پر منحصر ہے اور یہ کہ تہران دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات کو مسترد کرتا ہے۔

پاکستان نے 11-12 اپریل کو امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کی تھی، جب اس نے 8 اپریل کو 14 روزہ جنگ بندی کرانے میں کردار ادا کیا جو بدھ کو ختم ہونے والی ہے۔

اسلام آباد میں مذاکرات کے ایک اور دور کے لیے کوششیں جاری ہیں، تاہم غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔

اس سے قبل پاکستانی ذرائع نے کہا تھا کہ ایرانی حکام کی منگل کو اسلام آباد آمد متوقع ہے۔

وائٹ ہاؤس نے کہا کہ نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان واپس پرواز کے لیے تیار تھے، لیکن تہران نے اپنی شرکت کے بارے میں غیر یقینی برقرار رکھی، اور امریکہ پر الزام عائد کیا کہ اس نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی اور ایک جہاز کی ضبطی کے ذریعے جلد ختم ہونے والی جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔

وینس کے بارے میں توقع ہے کہ وہ منگل کی صبح مذاکرات کے لیے اسلام آباد روانہ ہوں گے۔

امریکہ نے اسی طرح تہران پر الزام لگایا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کو ہراساں کر کے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی، جو دنیا کے پانچویں حصے کے تیل کی ترسیل کا راستہ ہے، جسے ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کے جواب میں تقریباً بند کر دیا تھا۔

وائٹ ہاؤس نے پیر کو تہران سے اس اشارے کا انتظار کیا کہ وہ اپنا مذاکراتی وفد اسلام آباد بھیجے گا۔

ثالثوں نے ایرانی حکام سے مذاکرات میں شرکت کی درخواست کی ہے اور انہیں وفد بھیجنے پر زور دیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ “انتہائی غیر ممکن” ہے کہ وہ جنگ بندی میں توسیع کریں گے اور یہ کہ بحری ناکہ بندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے مستقل خاتمے کا معاہدہ نہیں ہو جاتا۔

دریافت کیجیے
یمن میں حوثیوں اور حکومتی افواج کے درمیان تصادم میں درجنوں افراد ہلاک
ٹرمپ کا جنگ ختم کرنے پر غور،پینٹاگون کا نفری بڑھانے پر زور
صدر ایران پیزشکیان: "اگر امریکہ اپنے وعدوں پر عمل کرے تو ایران بھی فوری طور پر اقدام کرے گا"
امریکی پابندیوں کے خلاف یورپ کی خاموشی مایوس کن ہے:ایران
امریکہ نےعراق کے لیے800 ملین ڈالر کےدفاعی پیکیج کی منظوری دے دی
ابوظہبی حکومت:ایران باز رہے ،جواب سخت ہوگا
اسرائیلی وزیر بن گویر نے فلسطینی خواتین قیدیوں کی تذلیل کی
فوجی تنصیب کو وسعت دینے کی خاطر فلسطینی زمین غصب کر لی
پیزشکیان: اگر امریکہ اسلام آباد معاہدے پر عمل کرتا ہے تو آبنائے ہرمز کھل سکتی ہے
ایرانی پارلیمانی اسپیکر قالیباف: "ہم جہاں پر تیل نہیں بیچ سکتے، وہاں کوئی بھی نہیں بیچ سکے گا"
اسرائیل کے قید خانوں میں 370 فلسطینی بچے موجود ہیں: رپورٹ
وائی پی جی کا سابق سرغنہ شامی صدر کا مشیر بن گیا
حماس کا اسلحہ سپرد کرنے اور حکومت سے دستبردار ہونے کا اعلان
جنوبی لبنان پر اسرائیل کے فضائی حملے جاری
عراق:بین الاقوامی اتحاد 30 ستمبر تک ملک سے انخلا مکمل کر لے گا
ایرانی حملوں سے مبینہ طور پر مشرق وسطی میں امریکی انٹیلیجنس تنصیبات کو  بھاری نقصان پہنچا ہے
امریکہ-ایران جنگ بندی کو برقرار رکھا جائے: چین و اردن
غیر قانونی اسرائیلی آباد کاروں نے قصرہ میں تین فلسطینی گھروں کو گھیرے میں لے لیا
ہمسایہ ممالک امریکہ کا آلہ کار نہ بنیں ورنہ انجام ٹھیک نہ ہوگا:ایران
جب تک اقتدار پر ہوں فلسطینی ریاست کا قیام ممکن نہیں ہوگا:نیتن یاہو