آئرلینڈ فٹ بال ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ ہماری قومی ٹیم بازووں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر میدان میں اترے گی۔
آئرلینڈ فٹ بال ایسوسی ایشن 'ایف اے آئی' نے اعلان کیا ہے کہ جمہوریہ آئرلینڈ کی قومی ٹیم کے کھلاڑی، غزہ پرمسّلط کردہ نسل کشی میں اسرائیل کی طرف سے قتل کئے گئے فلسطینیوں کی یاد میں، ہنگری میں متوقع آئرلینڈ بمقابلہ اسرائیل UEFA نیشنز لیگ میچ میں بازو پر سیاہ پٹیوں کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔
ایف اے آئی کے انتظامی بورڈ کے سربراہ ڈیوڈ کوریل نے میچ سے قبل، ایک کھلاڑی کے اسکواڈ سے نکلنے کی، تصدیق کی ہے۔
کوریل نے کہا ہےکہ قومی ٹیم کے اسکواڈ میں میدان میں اترنے یا بائیکاٹ کرنے پر کروائی گئی رائے شماری میں "بھاری اکثریت" نے میچ کھیلنے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ کھلاڑی غزہ میں نسل کشی کے دوران قتل کئے گئے تمام شہریوں کی یاد میں بازو پر سیاہ پٹیاں باندھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔"
عملے کے درمیان مختلف آراء سامنے آئیں
میچ کھیلا جائے گا یا نہیں اس بارے میں قیاس آرائیوں کی وجہ سے، کوچ ہیمیر ہالگریمسن اور ایک کھلاڑی کی شرکت سے میچ سے قبل متوقع پریس کانفرنس15 منٹ کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ آئرش ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق گول کیپر گیون بازونو سمیت کئی کھلاڑیوں نے اسرائیل کے خلاف کھیلنے کے خواہش مندوں کو اسکواڈ سے باہر کرنے کی درخواست کی۔ تاہم ایف اے آئی نے اپنے تحریری بیان میں مختلف آراء کے باوجود میچ کھیلنے کی تصدیق کی اور کہا ہے کہ "فیڈریشن نے یہ فیصلہ کھلاڑیوں سے مشاورت کے بعد کیا اور اکثریت نے میچ کھیلنے کے حق میں رائے دی ہے۔ فیڈریشن تمام کھلاڑیوں کی رائے کا احترام کرتی ہے اور معاملے کی حساسیت کو اہمیت دیتی ہے۔"
"ہم نسل کشی کے خلاف میدان میں اتر رہے ہیں"
آئرش نیشنل ٹیم کے 25 سالہ مڈ فیلڈر جیسن نائٹ پہلے شخص تھے جنہوں نے اسرائیل کے خلاف میچ کی کھلے عام مخالفت کی۔ نائٹ نے اپنے بیان میں کہا ہےکہ میرے خیال میں یہ میچ نہیں کھیلا جانا چاہیے لیکن کھیلا جائے گا۔ میچ سے پہلے 160 سے زائد آئرش کھلاڑیوں نے ایک کھلے خط پر دستخط کیے جس میں مطالبہ کیا گیا کہ قومی ٹیم میدان میں نہ اترے۔ "سٹاپ دی گیم" مہم کے فریم ورک کے اندر کیے گئے مظاہرے میں مطالبہ کیا گیا کہ اسرائیل پر بین الاقوامی فٹ بال پر پابندی عائد کی جائے۔ دوسری جانب آئرلینڈ کے کوچ ہالگریمسن نے اپنے سابقہ جائزے میں کہا تھا کہ اس میچ کی وجہ سے کچھ کھلاڑی "انتہائی بے چینی" محسوس کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہم، ایک لحاظ سے "نسل کشی کے خلاف" میدان میں اتر رہے ہیں۔

















