سیاست
3 منٹ پڑھنے
چین کا امریکہ کو نئے ٹیرف کے خلاف انتباہ، سپلائی چین متاثر ہونے پر بدلے کی دھمکی
واشنگٹن اور بیجنگ نے جون میں ایک تجارتی فریم ورک پر اتفاق کیا، جس سے رسہ کشی میں نرمی آئی تھی، تاہم کئی تفصیلات اب بھی واضح نہیں ہیں۔
چین کا امریکہ کو نئے ٹیرف کے خلاف انتباہ، سپلائی چین متاثر ہونے پر بدلے کی دھمکی
Trade talks between the U.S. and China, in London / Reuters

چین نے منگل کے روز ٹرمپ انتظامیہ کو خبردار کیا کہ وہ اگلے ماہ اس کی مصنوعات پر نئے محصولات عائد کرکے تجارتی کشیدگی کو دوبارہ نہ بڑھائے۔

چین نے  ان ممالک کے خلاف جوابی کارروائی کی دھمکی  بھی دی ہے  جو چین کو سپلائی چینز سے باہر رکھنے کے لیے امریکہ کے ساتھ معاہدے کریں گے۔

پیر کے روز، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تجارتی شراکت داروں کو 1 اگست سے امریکی محصولات میں نمایاں اضافے کے بارے میں مطلع کرنا شروع کیا، اس کے بعد انہوں نے اپریل میں زیادہ تر ممالک پر عائد 10 فیصد محصولات کو مؤخر کر دیا تھا تاکہ انہیں دنیا کی سب سے بڑی معیشت کے ساتھ معاہدے کرنے کا وقت مل سکے۔

چین، جسے ابتدائی طور پر 100 فیصد سے زائد محصولات کا سامنا کرنا پڑا، کے پاس 12 اگست تک کا وقت ہے کہ وہ وائٹ ہاؤس کے ساتھ معاہدہ کرے تاکہ ٹرمپ کو اپریل اور مئی میں محصولات کے تبادلے کے دوران عائد کردہ اضافی درآمدی پابندیاں دوبارہ نافذ کرنے سے روکا جا سکے۔

سرکاری اخبار 'پیپلز ڈیلی' نے ایک تبصرے میں کہا، "ایک نتیجہ واضح ہے: مکالمہ اور تعاون ہی واحد درست راستہ ہیں،" جو موجودہ چین-امریکہ تجارتی کشیدگی کے تبادلے کا حوالہ دے رہا تھا۔

یہ مضمون 'ژونگ شینگ' کے  عنوان سے شائع ہوا، جس کا مطلب ہے 'چین کی آواز'، اور اخبار یہ اصطلاح خارجہ پالیسی پر اپنے خیالات کے اظہار کے لیے استعمال کرتا ہے۔

بیجنگ کے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے کہ ٹرمپ کے محصولات "دھونس" کے مترادف ہیں، اخبار نے مزیدلکھا ہے کہ، "عملی تجربے نے ثابت کیا ہے کہ صرف اصولی مؤقف کو مضبوطی سے اپنانے سے ہی کوئی اپنے جائز حقوق اور مفادات کا حقیقی تحفظ کر سکتا ہے۔"

یہ بیانات ایک اور محصولات کی جنگ کے لیے ماحول تیار کرتے ہیں، اگر ٹرمپ اس پر قائم رہتے ہیں جسے حکمران کمیونسٹ پارٹی کے سرکاری اخبار نے "نام نہاد 'آخری ڈیڈ لائن'" کہا۔

پیٹرسن انسٹی ٹیوٹ فار انٹرنیشنل اکنامکس کے مطابق، چینی برآمدات پر امریکی اوسط محصول اب 51.1 فیصد ہے، جبکہ امریکی مصنوعات پر چینی اوسط محصول 32.6 فیصد ہے، اور دونوں فریقین اس عمل میں  اپنی تمام تجارت کو شامل کر رہے ہیں۔

اخبار نے ان علاقائی معیشتوں پر بھی تنقید کی جو چین کو اپنی سپلائی چینز سے باہر رکھنے کے لیے امریکہ کے ساتھ محصولات میں کمی کے معاہدے کرنے پر غور کر رہی ہیں۔

گزشتہ ہفتے، ویتنام نے ایک معاہدے کے ذریعے محصولات کو 46 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد کر لیا، جس کے تحت چین سے عموماً آنے والے "ٹرانس شپڈ" سامان پر 40 فیصد محصول عائد کیا جائے گا۔

اخبار نے کہا، "چین کسی بھی فریق کے ایسے معاہدے کرنے کی سختی سے مخالفت کرتا ہے جو چینی مفادات کو محصولات میں رعایت کے بدلے قربان کرے۔"

"اگر ایسی صورتحال پیدا ہوتی ہے، تو چین اسے قبول نہیں کرے گا اور اپنے جائز مفادات کے تحفظ کے لیے سخت  جواب دے گا۔"

 

دریافت کیجیے
ترکیہ کی طرف سے چار فلسطینیوں کی ہلاکت اور اسرائیل کی 'نسل کشی پالیسی' کی مذمت
شمال مغربی پاکستان میں پولیس چوکی پر دہشت گرد حملہ، 15 افراد لقمہ اجل
اقوام متحدہ کے سربراہ کا 17 سال بعد دورہ دمشق
ٹرمپ: اب ایران مذاکرات کے لیے زیادہ سنجیدگی سے کام لے رہا ہے
شمالی یوکرین میں سومی ڈاک خانے پر روسی ڈراون حملے میں 2 افراد ہلاک
فرانس اور ہسپانیہ میں بے قابو ہونے والی جنگلات کی آگ کے باعث دو لاکھ افراد فرار
ترکیہ: یوروفائٹر ٹائیفون کی تربیت کے لئے پہلا پائلٹ گروپ برطانیہ بھیجا جا رہا ہے
ایران، جنگ کی بھاری قیمت چُکا رہا ہے: روبیو
امریکی اسٹاک مرکیٹوں میں تناو، تیل 100 ڈالر سے اوپر چلا گیا
اسرائیلی فوج نے تین فلسطینیوں کو قتل کر کے لاشیں قبضے میں لے لیں
روسی گودام پر یوکرینی ڈرون حملے
جاپان امید کرتا ہے کہ فلسطین کے لیے حمایت میں اضافہ ہوگا
ترکیہ COP31 پروگرام میں رضاکار بننے کے لیے درخواستیں جاری
چین نے آبنائے تائیوان میں دو روزہ فوجی مشقیں شروع کر دیں
ایران: ہمارا دفاعی نظریہ بالکل واضح ہے، "آنکھ کے بدلے آنکھ"