شام کے صدر احمد شراع نے اتوار کے روز بیان دیا ہے کہ بشار الاسد کے اقتدار کا خاتمہ نہ صرف شام بلکہ پورے خطے کے لیے ناگزیر تھا۔
قطر کے نیوز چینل الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر شراع نے شام کو "خطے کا مرکزی محور" قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ وہ طویل عرصے سے یہ یقین رکھتے تھے کہ اسد حکومت شامی عوام کے خلاف کیے جانے والے جرائم کی وجہ سے ایک دن ضرور گر جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ ”پرانے اقتدار کا خاتمہ صرف شام کے لیے ہی نہیں، بلکہ پورے خطے کی سالمیت کے لیے ضروری تھا“۔
احمد شراع نے کہا کہ مخالفین نے صرف فوجی کارروائیوں پر ہی توجہ نہیں دی، بلکہ وہ اسد حکومت کے خاتمے کے بعد ملک کو چلانے اور اسے دوبارہ تعمیر کرنے کی تیاری بھی کر رہے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ فوجی کارروائی ہماری کوششوں کا صرف ایک ذریعہ ہے، ہمیں ایک مضبوط میڈیا بیانیے، عوامی حمایت، ایک مؤثر انتظامیہ اور اداروں کی تعمیر، معیشت کی بہتری اور پائیدار ترقی کے لیے حالات پیدا کرنے کے لیے ایک وسیع ٹیم کی ضرورت ہے۔
انہوں نے اپوزیشن کی حکمتِ عملی میں اتحاد کی اہمیت کو مرکزی قرار دیا اور کہا کہ یہ مہم کے دوران طاقت کا اصل سرچشمہ رہا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ماضی کی ناکامیوں اور محدود وسائل نے انہیں قیمتی اسباق سکھائے، جس کی وجہ سے انہوں نے دمشق کے اندر سے حکومت کا تختہ الٹنے کی کوششوں کو منظم کیا اور ساتھ ہی اپوزیشن کے کنٹرول والے علاقوں میں اداروں کو بھی قائم کیا۔
شامی صدر نے واضح کیا کہ انہوں نے کسی بیرونی امداد پر انحصار نہیں کیا؛ بلکہ اس کے بجائے انہوں نے شمال مغربی صوبے ادلب میں ایک متوازن مقامی معیشت تیار کرنے پر توجہ مرکوز کی جو بعد میں اسد حکومت کا تختہ الٹنے والے حملوں کا نقطہ آغاز بنی۔
انہوں نے کہا کہ شدید محاصرے اور دباؤ کے باوجود میں نے جنگ، تعمیرِ نو اور معیشت کو یکساں اہمیت دی۔
صدر نے دعویٰ کیا کہ ہم نے ادلب میں زندگی کے معیار کے معاملے میں پرانی حکومت کو بھی پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ انہوں نے اپنے ذاتی اور سیاسی سفر کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے خاندان کی جڑیں مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں سے جڑی ہیں، جس نے ان کی شناخت کو تشکیل دیا اور عرب قوم پرست نظریات اور اسلامی سوچ نے ان پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
صدر شراع نے انٹرویو کے آخر میں شام کو تہذیب کا گہوارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ انسانیت کا آغاز یہیں شام میں ہوا تھا۔ اور جب ہم دمشق کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں، تو ہم انسانی تہذیب کے گہوارے کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں“۔














