سیاست
2 منٹ پڑھنے
آئی او س کا ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان 'تاریخی' دفاعی معاہدے کا خیر مقدم
ہ یہ بڑھتے ہوئے سلامتی کے چیلنجز کو حل کرنے اور OIC رکن ممالک کے درمیان یکجہتی اور تعمیری شراکت داریوں کو مضبوط کرنے کے لیے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔، سربراہ اسلامی تعاون تنظیم
آئی او س کا ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان 'تاریخی' دفاعی معاہدے کا خیر مقدم
اسلامی تعاون تنظیم نے مکہ کے نئے دفاعی معاہدے کو ایک تاریخی سیکیورٹی اقدام قرار دیا۔ [فائل فوٹو] / َAA

اسلامی تعاون تنظیم (OIC) نے جمعہ کو سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کا خیرمقدم کیا۔

تنظیم کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ OICکے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طحہ نے اس معاہدے کے لیے اپنی 'قوی قدردانی اور حمایت' کا اظہار کیا، اور اسے تینوں ممالک کے علاقائی اور بین الاقوامی تعاون کو مضبوط کرنے کے عزم کی عکاسی کرتے ہوئے 'ایک اہم اسٹریٹجک اقدام' قرار دیا۔

طحہ نے کہا کہ یہ معاہدہ 'علاقے اور مسلم دنیا میں سلامتی اور استحکام کی حمایت کے لیے ایک بنیادی ستون' ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ بڑھتے ہوئے سلامتی کے چیلنجز کو حل کرنے اور OIC رکن ممالک کے درمیان یکجہتی اور تعمیری شراکت داریوں کو مضبوط کرنے کے لیے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

OIC کے سربراہ نے تینوں ممالک کی اُن کوششوں اور قیادت کی بھی تعریف کی جو بالآخر اس 'تاریخی معاہدے' کے دستخط پر منتج ہوئیں۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ خطے اور وسیع بین الاقوامی برادری میں امن و خوشحالی کے حصول میں معاون ثابت ہوگا۔

دفاعی معاہدہ

جمعہ کو مکہ میں منعقدہ سہ فریقی سربراہی اجلاس میں ترکیo، سعودی عرب اور پاکستان نے ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے، اور اجتماعی سلامتی کو مضبوط کرنے، دفاعی تعاون کو گہرا کرنے اور خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کو فروغ دینے کا عہد کیا۔

مکہ کے اجلاس میں ال صفا پیلس میں ترک صدر رجب طیب اردوان، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔

ترک حکام سے حاصل معلومات کے مطابق، یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا تعاون ہے جو کسی مخصوص ملک کو ہدف نہیں بناتا اور بوجھ بانٹنے اور مشترکہ سلامتی کے طریقۂ کار کے ذریعے علاقائی اور عالمی امن، استحکام اور خوشحالی کے عزم کو مضبوط کرنے کے لیے وضع کیا گیا ہے۔

حکام نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ کسی بھی جارحیت کے خلاف اجتماعی مزاحمت کو  مضبوط کرنے کا مقصد رکھتا ہے اور اس میں یہ شرط شامل ہے کہ تینوں میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملہ   رکن ممالک کے  خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔

 

دریافت کیجیے
امریکہ: چین کے ساتھ مذاکرات "بہت کامیاب" رہے ہیں
امریکہ نے یوکرین کے لیے  $2.68 بلین کے دفاعی پیکیج کی منظوری دے دی
چلی: سابق صدر نے اقوام متحدہ کے سربراہ کی دوڑ سےنام واپس لے لیا
ایران نےمذاکرات میں دوبارہ شامل ہونے کا شرط نامہ پیش کردیا
امریکہ کا منشیات کی ترسیل کرنے والے جہاز پر حملہ، 4 افراد ہلاک
اسرائیل کا غزہ پر حملہ، چار فلسطینی ہلاک
ڈیموکریٹ سینیٹر نے اسرائیل کو 2.8 بلین ڈالر کے اسلحے  کی فروخت روک دی
ترک صدر ایردوان نیویارک روانہ،جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے
ایران: تہران اور واشنگٹن کے درمیان بین الاقوامی سطح پر سفارتی   اور ثالثی کی کوششیں تا حال جاری
صدر ایردوان کا یوم غازی کے حوالے سے پیغام
یورپ میں تعلیمی بحران: PISA کے نتائج تاریخ کی کم ترین سطح پر
سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کا امریکہ کی طرف سے صدرِ فلسطین کو ویزا نہ جاری کرنے پر اظہارِ افسوس
پاکستان میں دہشت گرد حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 31 ہو گئی
اسرائیلی فوج کو تین سالہ جنگوں کے بعد عسکری سازو سامان میں 'شدید کمی' کا سامنا ہے: رپورٹ
روس نے کیف کو بڑھتی ہوئی ہتھیار کی فراہمی پر برطانوی سفارت کار کو طلب کر لیا