دنیا
2 منٹ پڑھنے
امریکہ کو اسرائیل کی طرف سے خطرہ
امریکہ نے اسرائیل کی طرف سے بڑھتے ہوئے جاسوسی خطرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے
امریکہ کو اسرائیل کی طرف سے خطرہ
یہ خدشات ایران کے خلاف اپنی جنگ میں دونوں ممالک کے مابین بے مثال فوجی تعاون کے دوران سامنے آئے ہیں۔ (تصویر: فائل) / AP

امریکہ نے اسرائیل کی طرف سے بڑھتے ہوئے جاسوسی خطرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

روزنامہ 'دی نیویارک ٹائمز' کی اپنی ہفتے کی اشاعت میں امریکی حکام کے حوالے سے شائع کردہ خبر کے مطابق، امریکی انٹیلی جنس رپورٹوں نے، واشنگٹن۔ایران  مذاکرات کے دوران، اسرائیل کی جانب سے بڑھتے ہوئے جاسوسی خطرات پر تشویش ظاہر کی ہے ۔

اخبار کے مطابق امریکہ اور اسرائیل ایک دوسرے کی جاسوسی سرگرمیوں سے طویل عرصے سے آگاہ ہیں اور عموماً انہیں برداشت کرتے رہے ہیں، تاہم بعض امریکی حکام کا خیال ہے کہ ایران مذاکرات کے حوالے سے امریکی مؤقف جاننے کے لیے اسرائیل کی جانب سے معلومات جمع کرنے کی حالیہجان توڑ کوشش "قابلِ قبول حدود سے تجاوز" کر گئی ہے۔

خبر میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چیف مذاکرات کار اسٹیوٹ کوف، پینٹاگون کے پالیسی انڈر سیکریٹری البرج اے کولبی اور ان کے نائب میشل پی ڈیمینو فورتھ سمیت، اعلیٰ امریکی حکام کی نگرانی میں اضافہ کر دیا ہے ۔

دوسری جانب، دفاعی انٹیلی جنس ایجنسی 'ڈی آئی اے' نے ایک  الگ رپورٹ میں کہا ہے کہ  امریکی فوجی اہلکاروں اور سرکاری حکام کے خلاف جاسوسی سرگرمیوں کے باعث اسرائیل سے متعلق جوابی انٹیلی جنس خطرے کی سطح کو "اعلیٰ" سے بڑھا کر "انتہائی سنگین" قرار دے دیا گیا ہے۔

یہ خدشات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب دونوں ممالک ایران کے خلاف جاری جنگ میں غیر معمولی فوجی تعاون کر رہے ہیں۔ اگرچہ امریکہ اسرائیل کے ساتھ وسیع پیمانے پر حکمتِ عملی اور آپریشنل انٹیلی جنس کا تبادلہ کرتا ہے تاہم  امریکی حکام کا ماننا ہے کہ اسرائیل ٹرمپ انتظامیہ کی مذاکراتی حکمتِ عملی اور مذاکرات میں بدلتے ہوئے مؤقف کے بارے میں مزید گہری معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اخبار نے خبردار کیا کہ اگر پینٹاگون اسرائیلی افسران کے ساتھ معلومات کے تبادلے کو محدود کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس سے دونوں ممالک کے درمیان فوجی انضمام اور تعاون کا عمل مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ ٹرمپ، ایران کے ساتھ سفارت کاری کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو ایران، اس کی حکومت اور اس کے علاقائی اتحادیوں کو مزید کمزور کرنے کے خواہاں ہیں، جس کے باعث دونوں اتحادی ممالک کے درمیان پہلے ہی سے تناؤ موجود ہے۔