سیاست
4 منٹ پڑھنے
روس-یوکرائن جنگ میں شمالی کوریا کا جانی نقصان 4,700 فوجی ہے
جنوبی کوریا: یوکرین جنگ میں روس کے ساتھ فوجی تعاون کے نتیجے میں شمالی کوریا کے تقریباً 5,000 فوجی ہلاک ہو چُکے ہیں
روس-یوکرائن جنگ میں شمالی کوریا کا جانی نقصان 4,700 فوجی ہے
Pyongyang confirmed it sent forces to support Russia under a defence treaty. / Reuters

جنوبی کوریا کی خفیہ ایجنسیNIS کی  بدھ کے روز اسمبلی ممبران کو دی گئی بریفنگ  کے مطابق روس کےساتھ مل کر یوکرینی فوج کے خلاف جنگ میں شمالی کوریا کے   اندازاً  4 ہزار700 فوجی ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔

یہ اندازہ  شمالی کوریا کی طرف سے  ،روس  میں فوجی بھیجنے کی، پہلی بار تصدیق  کے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔  شمالی کوریا کا فوجی بھیجنے کا مقصد، کرسک کے یوکرین کے زیرِ قبضہ علاقوں کی رہائی میں، روس کی مدد کرنا تھا۔

پارلیمانی کمیٹی کے لئے  بند کمرے کی بریفنگ میں جنوبی کوریا کی قومی  انٹیلی جنس سروس نے کہا ہے  کہ  روس۔یوکرین محاذ پر شمالی کوریا کا جانی نقصان600 اموات سمیت  4 ہزار 700 فوجی ہے۔  یہ معلومات اجلاس میں شریک اسمبلی ممبران میں سے ' لی سیونگ کوین' نے دی ہیں۔

لی نے صحافیوں کو بتایا  ہےکہ این آئی ایس  مطابق جنوری سے مارچ کے درمیان شمالی کوریا کے  2 ہزار زخمی فوجیوں کو بذریعہ ہوائی جہاز  یا ٹرین شمالی کوریا واپس بھیجا گیا ہے۔ خفیہ ایجنسی  نے یہ بھی کہاہے  کہ جنگ میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی لاشوں کو جلانے کی رسومات روس میں ادا کی گئیں اور   ان کی باقیات کو شمالی کوریا  واپس بھیجا گیا ہے۔

جنوری میں، این آئی ایس نے کہا تھا کہ تقریباً 300 شمالی کوریائی فوجی ہلاک اور 2,700 زخمی ہوئے ہیں تاہم  جنوبی کوریا کی فوج نے گذشتہ ماہ یہ تعداد بڑھا کر  4,000 کر دی ہے۔

پیر کے روزشمالی کوریا نے اعلان کیا  تھا کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے یوکرینی 'نیو نازی' قابضین کو ختم کرنے اور  روسی مسلح افواج کے ساتھ تعاون کرکےکرسک کو آزاد کروانے کے لیے فوجی بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ روس کے صدر ولادی میر پوتن نے بعد میں ایک بیان جاری کیا جس میں شمالی کوریا کا شکریہ ادا کیا اورکہا تھا کہ ہم،  شمالی کوریا کے فوجیوں کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کریں گے۔

کم اور پوتن دونوں نے کہا تھا  کہ شمالی کوریا  کے فوجیوں کی تعیناتی دونوں  ممالک کے درمیان  2024 کے تاریخی دفاعی معاہدے کے تحت کی گئی ہے۔ یہ معاہدہ  فریقین میں سے کسی   ایک پر حملے کو دوسرے پر بھی حملے کے مترادف قرار دیتا ہے۔ امریکہ، جنوبی کوریا اور ان کے ساجھے داروں کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا ،روس کے ختم ہوتے اسلحہ ذخائر کوبھرنے کے لیے بڑی مقدار میں روایتی ہتھیار فراہم کر رہا ہے۔ وہ یہ بھی شبہ  ظاہر کر رہے ہیں کہ اس تعاون کے بدلے میں روس ، شمالی کوریا کو فوجی اور اقتصادی مدد فراہم کر رہا ہے۔

دس ہزار سے زائد شمالی کوریائی فوجی

امریکہ، جنوبی کوریا اور یوکرین کے حکام نے کہا ہے کہ شمالی کوریا نے گزشتہ موسمِ خزاں میں 10,000 سے 12,000 کی تعداد میں فوجی روس بھیجے ہیں۔ جنوبی کوریا کی فوج نے مارچ میں کہا  تھا کہ شمالی کوریا نے اس سال کے اوائل میں روس کو مزید 3,000 فوجی بھیجے ہیں۔

بدھ کی بریفنگ کے دوران، این آئی ایس نے کہا  ہےکہ اس کے اندازے کے مطابق  روس نے شمالی کوریا کو فضائی دفاعی میزائل، الیکٹرانک جنگی آلات، ڈرون اور جاسوسی سیٹلائٹ لانچنگ ٹیکنالوجی فراہم کی ہے۔ یہ معلومات   این آئی ایس بریفنگ میں شریک اسمبلی ممبر ' کم بیونگ کی' نے دی ہیں۔

کم نے این آئی ایس کے حوالے سے کہا ہے کہ دو طرفہ صنعتی تعاون  پروگراموں کے تحت شمالی کوریا کے  15,000 مزدوروں کو بھی روس بھیجا گیا ہے۔ انہوں  نے کہا  ہےکہ شمالی کوریا کی طرف سے روس  بھیجے گئے میزائلوں اور توپ خانے کی مالیت اربوں ڈالر ہے، لیکن این آئی ایس نے ان کے بدلے روس کی طرف سے شمالی کوریا کو کسی نقد رقم کی فراہمی کے  کوئی شواہد نہیں دیکھے ۔

دریافت کیجیے
امید ہے ہم کامیاب ہو جائیں گے: کالاس
ایشیاءتوانائی کے بڑے جھٹکوں کے لئے تیار ہو رہا ہے
سابق تھائی وزیراعظم شیناواترا کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا
جب تک جوہری مواد موجود ہے معاملہ ختم نہیں ہو گا: نیتن یاہو
مشرقی کونگو میں دہشتگردانہ حملے،21 افراد ہلاک
ٹرمپ کو ایران کا جواب پسند نہیں آیا،تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں
روس، سلوواکیہ کو توانائی فراہم کرنے کی 'ہر ممکن' کوشش کرے گا: پوتن
اسرائیل نے عراق میں ایک خفیہ فوجی اڈّہ بنا لیا
اسرائیلی وزارتی کمیٹی اوسلو معاہدوں کی منسوخی کے بل پر بحث کرے گی
باکستان: کار بم دھماکہ اور فائرنگ، بارہ پولیس اہلکار ہلاک
چین: جاپان، انڈو-پیسیفک کو بطور پردہ استعمال کر رہا ہے
پوتن: روسی افواج نیٹو کی طرف سے مسلح اور حمایت کردہ ایک حملہ آور طاقت سے نبرد آزما ہے
ترکیہ عالمی دفاعی طاقت کے طور پر اُبھر رہا ہے، صدر ایردوان
اسرائیل نے غزہ میں ایک مکان کو نشانہ بنایا جس دوران 9 افراد زخمی ہو گئے
سعودی عرب کی فوجی آپریشنز میں اپنی فضائی حدود کے استعمال کی اجازت دینے کی تردید