ایشیا
3 منٹ پڑھنے
ایٹمی ہتھیار بنانے سے ہمیں کوئی نہیں روک سکتا:شمالی کوریا
شمالی کوریا نے کہا ہے کہ پیانگ یانگ ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کا پابند نہیں ہے اور بیرونی دباؤ اسے ایٹمی ریاست کے طور پر اپنی حیثیت تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کر سکے گا
ایٹمی ہتھیار بنانے سے ہمیں کوئی نہیں روک سکتا:شمالی کوریا
شمالی کوریا / Reuters

اقوام متحدہ میں شمالی کوریا کے سفیر کم سونگ کا کہنا ہے کہ ان کے ملک کی ایٹمی طاقت کی حیثیت بیرونی بیانات یا دعووں کی بنیاد پر تبدیل نہیں ہوگی۔

سرکاری میڈیا کے مطابق، سونگ نے کہا کہ پیانگ یانگ ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کا پابند نہیں ہے اور بیرونی دباؤ اسے ایٹمی ریاست کے طور پر اپنی حیثیت تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کر سکے گا۔

جمعرات کے روز شمالی کوریا کی سرکاری نیوز ایجنسی 'کے سی این اے' (KCNA) کے ذریعے جاری کردہ ایک بیان میں سونگ نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں جاری این پی ٹی (NPT) کی 11ویں جائزہ کانفرنس میں امریکہ اور اس کے نقشِ قدم پر چلنے والے بعض ممالک شمالی کوریا کی موجودہ حیثیت اور خودمختار حقوق کے استعمال پر بلا جواز سوال اٹھا رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ شمالی کوریا کی ایٹمی ریاست کی حیثیت بیرونی لفاظی یا یکطرفہ خواہشات کی بنیاد پر تبدیل نہیں ہوگی، یہ بات ایک بار پھر واضح کر دوں کہ شمالی کوریا کسی بھی صورت میں این پی ٹی (NPT) کا پابند نہیں رہے گا۔"

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک کی ایٹمی ریاست کی حیثیت کو "آئینی تحفظ " حاصل ہے، جس میں ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کے اصولوں کا شفاف طریقے سے اعلان کیا گیا ہے۔

پیانگ یانگ نے پہلی بار 1993 میں این پی ٹی (NPT) سے علیحدگی اختیار کی تھی اور تب سے اب تک چھ ایٹمی تجربات کر چکا ہے، جس کی وجہ سے اس پر اقوام متحدہ کی متعدد پابندیاں عائد ہیں۔

 خیال کیا جاتا ہے کہ اس کے پاس درجنوں ایٹمی وار ہیڈز موجود ہیں۔

یاد رہے کہ 2002 میں شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان ایک معاہدہ ختم ہو گیا تھا جس میں پیانگ یانگ نے امداد کے بدلے اپنے پلوٹونیم پروگرام کو منجمد کرنے کا عزم کیا تھا۔

 اسی سال شمالی کوریا نے اعتراف کیا تھا کہ وہ کئی سالوں سے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کا ایک خفیہ پروگرام چلا رہا ہے۔

شمالی کوریا نے اپنا پہلا ایٹمی تجربہ 8 اکتوبر 2006 کو کیا تھا، اس کے بعد کئی دیگر تجربات بھی کیے گئے۔

اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) کی رپورٹ کے مطابق، جنوری 2025 تک دنیا کی نو ایٹمی ریاستوںروس، امریکہ، فرانس، برطانیہ، چین، بھارت، پاکستان، اسرائیل اور شمالی کوریاکے پاس مجموعی طور پر 12,241 ایٹمی وار ہیڈز موجود تھے۔

رپورٹ کے مطابق دنیا کے تقریباً 90 فیصد ایٹمی ہتھیار امریکہ اور روس کے پاس ہیں اور حالیہ برسوں میں ان دونوں ممالک نے ان ہتھیاروں کو جدید بنانے کے بڑے پروگراموں پر عمل کیا ہے۔

 اسرائیل واحد ملک ہے جو ایٹمی ہتھیار رکھنے کی تصدیق کیے بغیر انہیں اپنے پاس رکھے ہوئے ہے۔

 

 

دریافت کیجیے
بنگلادیش "مکہ معاہدے" میں دلچسپی رکھتا ہے:ہمایوں کبیر
شمالی چین میں آتشزدگی، 8 افراد ہلاک، 3 زخمی
امریکہ اور جنوبی کوریا کے ساتھ تعاون علاقے کے لیے 'انتہائی اہم' ہے: جاپان
انڈونیشیا میں زلزلے کی تباہی،ترکیہ کا اظہار تعزیت
نیپال،شدید بارشوں کی تباہی ،5 افراد ہلاک 8 لا پتہ
سعودی عرب،16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
نگاساکی ایٹم بم کی 81 ویں برسی
افغانستان میں طالبان کے ایک عہدے دار کو ہم نے مارا ہے:داعش
جاپان میں زلزلہ،ہلاکتوں کی تعداد 30 ہو گئی
چین میں اوپر تلے دو زلزلے
چین ۔فلپائن سمندری تنازعہ، بیجنگ نے ویڈیو  جاری کر دی
آسیان کے وزرائے خارجہ کا اجلاس،اہم موضوعات پر تبادلہ خیال
چین: طیارہ حادثے کے بعد ہلکے طیاروں کی پروازوں پر پابندی
ہمیں اگلے پانچ سالوں میں ہر سال دو جنگی جہاز بنانے چاہئیں:کم جونگ اُن
امید ہے امریکہ ہمیں اسلحہ فراہم کر دے گا: تائیوان
مصنوعی ذہانت کی تقسیم پر قریبی شراکت داری ضروری ہے:جنوبی کوریا
جنوبی کوریا کا مقامی جنگی طیارہ KF-21 آسمان کی بلندیوں پر
کیوبا نے معاشی بحالی اور بیورو کریسی کم کرنے کے لیے اصلاحات کا اعلان کردیا
ہماری کوشش ہوگی کہ پاکستان کو پانی کی ایک بوند نہ ملے:بھارت
فلپائن: زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد 46 تک پہنچ گئی، بحالی کی کوششیں جاری