مشرق وسطی
3 منٹ پڑھنے
امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا:ایران
عراقچی نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ امریکیوں کے ساتھ دوبارہ بات چیت یا مذاکرات کا سوال میز پر ہوگا کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ  ہمارے امریکیوں کے ساتھ بات چیت کا بہت تلخ تجربہ ہے
امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا:ایران
عباس عراقچی / Reuters

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے  بہت تلخ تجربے کے بعد ایک بار پھر امریکا کے ساتھ مذاکرات کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔

پیر کو PBS نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں عراقچی نے اس سوال کا جواب دیا کہ آیا ایران کے نئےا علیٰ مقام رہبر مجتبیٰ خامنہ ای دوبارہ گفتگو یا جنگ بندی کے لیے آمادہ ہوں گے یا نہیں توانہوں نے کہا کہ ان کے لیے کسی بھی قسم کی تبصرہ کرنا ابھی بہت جلد ہے'۔

عراقچی نے کہا کہ لیکن میں نہیں سمجھتا کہ امریکیوں کے ساتھ دوبارہ بات چیت یا مذاکرات کا سوال میز پر ہوگا کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ  ہمارے امریکیوں کے ساتھ بات چیت کا بہت تلخ تجربہ ہے'۔

انہوں نے پچھلے جون میں ہونے والی بارہ روزہ جنگ کی طرف اشارہ کیا جب اسرائیلی اور امریکی افواج نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان بات چیت جاری ہونے کے دوران ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔

فروری کے آخر میں جنیوا میں امریکی-ایران جوہری مذاکرات کے تازہ ترین دور کا حوالہ دیتے ہوئے عراقچی نے کہا کہ دونوں جانب نے عمانی ثالثی کے تحت ان گفت و شنید کو تعمیری قرار دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ لیکن پھرمذاکرات کے تین دور کے بعد اور مذاکرات میں امریکی ٹیم کے یہ خود کہنے کے باوجود کہ ہم نے بڑی پیشرفت کی پھر بھی انہوں نے ہمیں نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا لہٰذا میں نہیں سمجھتا کہ امریکیوں کے ساتھ بات کرنا اب ہماری ایجنڈا میں ہوگا'۔

عالمی تیل کی منڈیوں میں خلل کے بارے میں بات کرتے ہوئے عراقچی نے کہا کہ تیل کی پیداوار اور نقل و حمل میں سست روی کا ذمہ دار ایران نہیں ہے ،یہ ہمارا قصور نہیں ہے۔

ان کا موقف تھا کہ یہ خلل اسرائیل اور امریکا  کے حملوں کے باعث پیدا ہوا ہے۔

عراقچی کے مطابق ان حملوں نے خطے کو تیزی سے غیر مستحکم اور غیر محفوظ بنا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے ٹینکرز اور جہاز ہرمز  سے گزرنے میں خوف محسوس کر رہے ہیں

عراقچی نے ان الزامات کو بھی رد کر دیا کہ ایران علاقائی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے ذریعے جان بوجھ کر تیل کی فراہمی محدود کر رہا ہے،ہم ایک ایسی جارحیت کا سامنا کر رہے ہیں جو بالکل غیرقانونی ہے، اور جو ہم کر رہے ہیں وہ دفاعِ خود ہے جو قانونی اور جائز ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تہران نے علاقائی ریاستوں کو خبردار کیا تھا کہ اگر امریکہ نے ایران پر براہِ راست حملہ کیا تو ایران پورے خطے میں امریکی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنا کر جواب دے گا  جس کےنتیجے کے طور پر جنگ پورے خطے میں پھیل جائے گی جس کے ذمےدار ہم نہیں ہونگے۔

 

 

دریافت کیجیے
حماس کا اسرائیل پر غزہ میں نسل کشی کے شواہد چھپانے کا الزام
حوثیوں کے  حملے، سعودی عرب کی مذمت
اسرائیلی حملوں میں جنوبی لبنان میں دو شیرخوار بچوں سمیت کم از کم 11 افراد لقمہ اجل
ہم پر پابندیاں لگانے سے امریکہ کو زیادہ نقصان ہوگا:ایران
اسرائیل کی جنوبی شام پر بمباری
یمنی فوج کا شمالی الجوف میں حوثی فوجی کیمپ پر حملہ
ایران:امریکی حملوں کی مذمت،جوابی کاروائی کی دھمکی
یمن میں حوثیوں اور حکومتی افواج کے درمیان تصادم میں درجنوں افراد ہلاک
ٹرمپ کا جنگ ختم کرنے پر غور،پینٹاگون کا نفری بڑھانے پر زور
صدر ایران پیزشکیان: "اگر امریکہ اپنے وعدوں پر عمل کرے تو ایران بھی فوری طور پر اقدام کرے گا"
امریکی پابندیوں کے خلاف یورپ کی خاموشی مایوس کن ہے:ایران
امریکہ نےعراق کے لیے800 ملین ڈالر کےدفاعی پیکیج کی منظوری دے دی
ابوظہبی حکومت:ایران باز رہے ،جواب سخت ہوگا
اسرائیلی وزیر بن گویر نے فلسطینی خواتین قیدیوں کی تذلیل کی
فوجی تنصیب کو وسعت دینے کی خاطر فلسطینی زمین غصب کر لی
پیزشکیان: اگر امریکہ اسلام آباد معاہدے پر عمل کرتا ہے تو آبنائے ہرمز کھل سکتی ہے
ایرانی پارلیمانی اسپیکر قالیباف: "ہم جہاں پر تیل نہیں بیچ سکتے، وہاں کوئی بھی نہیں بیچ سکے گا"
اسرائیل کے قید خانوں میں 370 فلسطینی بچے موجود ہیں: رپورٹ
وائی پی جی کا سابق سرغنہ شامی صدر کا مشیر بن گیا
حماس کا اسلحہ سپرد کرنے اور حکومت سے دستبردار ہونے کا اعلان