سیاست
3 منٹ پڑھنے
نائب صدر وینس نے امریکہ کی طویل مشرق وسطی جنگ کے مفروضات کو مسترد کر دیا
یہ خیال کہ ہم سالوں تک مشرق وسطیٰ میں ایک ایسی جنگ میں ہوں گے جس کا کوئی اختتام نظر نہ آئے — ایسا ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے
نائب صدر وینس نے امریکہ کی طویل مشرق وسطی جنگ کے مفروضات کو مسترد کر دیا
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ ایران پر حملے امریکہ کو طویل جنگ میں نہیں گھسیٹیں گے۔ / Reuters
16 گھنٹے قبل

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں طویل جنگ میں  نہیں پھنسے گا، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ جاری جوہری مذاکرات کے دوران ایران کے خلاف فوجی اختیارات پر غور کر رہے ہیں۔

وینس نے  میڈیا سے بات کرتے ہوئے برسوں تک جاری رہ سکنے والی جنگ کے تصور کو غیر متعلقہ قرار دیا۔ "یہ خیال کہ ہم سالوں تک مشرق وسطیٰ میں ایک ایسی جنگ میں ہوں گے جس کا کوئی اختتام نظر نہ آئے — ایسا ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے,"

یہ بیانات اس دوران آئے ہیں جب امریکہ اور ایران نے جمعرات کو جنیوا میں بالواسطہ مذاکرات کے تیسرے دور کا انعقاد کیا ہے ، جو کہ ایران کےجوہری  پروگرام سے متعلق حساس بات چیت کا تسلسل ہے۔

ایرانی حکام نے بات چیت کو سنجیدہ اور نتیجہ خیز قرار دیا، اگرچہ اختلافات بدستور موجود ہیں۔

وینس نے ایران میں گزشتہ سال کی فوجی کارروائی اور جنوری میں وینیزویلا کے صدر نکولس مادورو کے واقع کو محدود اور معین آپریشنز کی مثالوں کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کوششوں کے واضح مقاصد اور اختتامی نکات تھے۔

"امریکی نائب صدر نے پوسٹ کو بتایا  کہ وہ خود کو اب بھی 'غیر ملکی فوجی مداخلتوں کا شک پسند' سمجھتے ہیں۔ "میرے خیال میں ہم سب سفارتی راستے کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن یہ واقعی اس بات پر منحصر ہے کہ ایرانی کیا کرتے ہیں اور کیا کہتے ہیں۔"

گزشتہ جنگوں کے سبق کے بارے میں سوال پر وینس نے خبردار کیا کہ ہمیں نہ تو انہیں بھولنا چاہیے اور نہ ہی انہیں دہرانا چاہیے۔ "میرے خیال میں ہمیں ماضی کی غلطیوں کو دہرانے سے بچنا ہو گا۔ میں یہ بھی سوچتا ہوں کہ ہمیں ماضی کے اسباق کو ضرورت سے زیادہ سمجھنے سے بھی بچنا چاہیے۔"  انہوں نے مزید کہا کہ محض اس لیے کہ ایک صدر نے کسی جنگ  میں غلطی کی، اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم دوبارہ عسکری تنازعے میں شامل  نہیں ہو سکتے۔"

دریں اثنا، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جنیوا کی میٹنگ کو ایک 'اہم' اجلاس قرار دیا جس میں پیشرفت ہوئی اور اشارہ دیا کہ تقریباً ایک ہفتے میں مذاکرات کا ایک اور دور ہو سکتا ہے۔

انہوں نے ایرانی سرکاری میڈیا  کو انٹرویو میں کہا"یقیناً اب بھی اختلافات ہیں، جو کہ فطری ہیں، لیکن ماضی کے مقابلے میں دونوں فریق ایک طے شدہ حل تک پہنچنے میں زیادہ سنجیدگی دکھا رہے ہیں، صدر ٹرمپ نے اپنے قوم سے خطاب میں ایران کے میزائل پروگرام اور جوہری  عزائم کے بارے میں خدشات کو اجاگر کیا، حالانکہ حکام اب بھی سفارت کاری جاری رکھے ہوئے ہیں۔

دریافت کیجیے