دنیا
3 منٹ پڑھنے
جنوبی تھائی لینڈ میں چار صوبوں میں 70 سے زیادہ مقامات پر آتشزدگی اور بم حملے
تھائی لینڈ کے جنوبی حصے میں جہاں اکثریت مسلمانوں کی ہے، وہاں چند دہائیوں سے جاری ایک باغی تحریک مزید خود مختاری یا آزادی کا مطالبہ کر رہی ہے۔
جنوبی تھائی لینڈ میں چار صوبوں میں 70 سے زیادہ مقامات پر آتشزدگی اور بم حملے
تھائی لینڈ کے صوبہ ناراتھیوات میں مقامی سرکاری دفتر میں آتش زنی، 23 اگست 2026ء / اے پی

حکام کے مطابق،  اختتام الہفتہ مشکوک باغیوں نے تھائی لینڈ کے جنوبی ترین چار صوبوں میں 70 سے زائد مقامات پر حکومتی عمارتوں، دکانوں، گاڑیوں اور بجلی کے کھمبوں کو آگ لگا دی، جس سے کم از کم تین افراد زخمی ہوئے؛ یہ حملے کسی منصوبہ بندی کے  تحت کیے گئے۔

2004سے جب حالیہ دور کی بارِسان روولوسی  نیشنل (BRN)  کی قیادت میں طویل المدتی بغاوتی تحریک بھڑکی، 7,800 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

تھائی حکام نے کہا کہ چار صوبوں میں کم از کم 78 واقعات درج ہوئے: ناراتھیواٹ میں 40، یالا میں 21، پٹانی میں 15 اور سونگکھلا میں دو۔ کسی گروپ نے ان واقعات کی  ذمہ داری  تا حال قبول نہیں کی۔

زیادہ تر حملے ہفتے کی شام کو پٹانی، یالا، ناراتھیواٹ اور سونگکھلا کے بعض حصوں میں ہوئے، جبکہ اتوار کو بھی کچھ واقعات رپورٹ ہوئے۔

ناراتھیواٹ میں ایک ریلوے لائن کو دھماکہ خیز مواد سے نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث اس حصے میں ٹرین سروس معطل کر دی گئی۔

حکام نے ناراتھیواٹ میں کرفیو نافذ کر دیا ہے، اور اتوار کو ایک اجلاس میں تھائی وزیرِ اعظم انونتن چارنویراکل نے سیکیورٹی فورسز سے عوامی حفاظت کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

تھائی لینڈ کا وہ علاقہ جو زیادہ تر مسلم اور نسلاً ملائی آبادی پر مشتمل ہے، دہائیوں سے ایک بغاوتی تحریک کا سامنا کر رہا ہے جو زیادہ خود مختاری یا آزادی کا مطالبہ کرتی ہے۔

1909 میں تھائی لینڈ میں شمولیت سے قبل یہ خطہ آزاد ملائی سلطنتِ پٹانی کا حصہ تھا۔

یہ حملے ایسے موقع پر ہوئے جب تھائی لینڈ علاقے میں سرگرم مرکزی علیحدگی پسند گروپ BRN کے ساتھ امن مذاکرات کو پھر سے بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

چیف مذاکرات کار تھانت سوورنانندا نے اس ماہ کہا کہ بنکاک تشدد میں کمی کے بدلے رعایتیں دینے کے روایتی طریقے سے آگے بڑھنا چاہتا ہے اور سیاسی شکایات بشمول حکمرانی کے امور کو حل کرنا چاہتا ہے۔

ملائیشیا کی وساطت سے ہونے والے امن مذاکرات 2013 میں شروع ہونے کے بعد سے بار ہا خلل کا شکار بن  چکے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل نوراتِھپ پونوک، جو جنوبی علاقے میں تھائی فوج کے کمانڈر ہیں، نے پیر کو مقامی ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ حکام کو تقریباً دو ماہ قبل ایسی خفیہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں جن میں حکومتی عمارتوں، دکانوں اور توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملوں کی وارننگ دی گئی تھی۔

نوراتِھپ نے ان حملوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان باغیوں اور غیرقانونی کاروباروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے بدلے کے طور پر کیے گئے جو عسکریت پسند گروپوں کو مالیاتی طور پر تعاون فراہم کرتے ہیں، جن میں منشیات اور اسمگلنگ بھی شامل ہیں۔

 

دریافت کیجیے
ترکیہ نے سویٹزرلینڈ کو پہلی سی ای وی یورپی چیمپئن شپ میں ہرا دیا
9 یورپی ممالک نے ہوائی اڈوں پر شدید رش  کے باعث داخلی اور خارجی چیکنگ کو ملتوی کر دیا
اسرائیلی فلم سازوں کی شہریت منسوخ کروادوں گا:اسرائیلی وزیر
اسرائیلی وزیر دفاع کی جنوبی لبنان کے پہاڑوں کی طرف رخ کرنے والوں کو 'ختم کرنے' کی دھمکی
ایران اور متحدہ عرب امارات باہمی تعلقات کو مضبوط کرنے اور تعاون میں توسیع پر متفق
اسرائیل نے ڈرون حملہ کر کے دو فلسطینیوں کو قتل اور 13 کو زخمی کر دیا
فلسطین: ہم برکس کے اعلامیے کا خیر مقدم کرتے ہیں
عراق: ڈرون لانچنگ پلیٹ فارم کو قبضے میں لے لیا گیا ہے
یوکرین کی طرف سے تاتارستان پر ڈرون حملے
ترکیہ: ہم، سعودی عرب پر ڈرون حملوں کی مذّمت کرتے ہیں
شمالی قبرصی ترک جمہوریہ: امریکہ کا فیصلہ انتہائی  افسوسناک ہے
ترکیہ: ہم، شمالی قبرصی ترک جمہوریہ کے موقف سے اتفاق کرتے ہیں
فرانس میں ٹرین حادثے کی تحقیقات ممکنہ طور پر سبوتاژ کے طور پر کی جا رہی ہیں
لبنان سے انخلاء تک اسرائیل کے ساتھ کوئی نئی مذاکرات نہیں: عون
سعودی عرب: عراق سے تیل پائپ لائن کو نشانہ بنائے جانے کے بعد بغداد اس واقع کی تحقیقات کر رہا ہے