بدھ کے روزڈالر کی قدر میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ کیونکہ تاجروں نے امریکی-اسرائیلی جنگ میں ایران کے خلاف آئندہ اقدامات کے اشاروں کا انتظار کیا، اور تنازع کے حل کے حوالے سے مخلوط پیغامات نے سرمایہ کاروں کے ارادوں کو کمزور رکھا۔
عالمی منڈیوں کا خیال ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جلد تنازع ختم کرنے کی کوشش کریں گے، لیکن ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی رسد کو روکنے کے اقدامات پر ایران کو سخت نشانہ بنانے کی بار بار دھمکی بھی دی ہے۔
جنگ کے دوران تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ تیزی آنے والا ڈالر اب تیزی سے حل کی امیدوں کے باعث گرنے لگا ہے، مگر تجزیہ کار تنازع کے جلد ختم ہونے کے بارے میں شکوک و شبہات رکھتے ہیں۔
کامن ویلتھ بینک آف آسٹریلیا کے حکام کا کہنا ہے کہ "ہماری توقع کے مطابق یہ جنگ مہینوں تک چلے گی، ہفتوں تک نہیں۔
یورو اور پاونڈ کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں اضافہ ہوا ہے۔
جنگ اپنے بارہویں دن میں داخل ہوچکی ہے تو امریکہ اور اسرائیل نے پورے مشرقِ وسطیٰ میں ایران کی فوج کے ساتھ فضائی حملوں کا تبادلہ کیا۔
محاصرہ شدہ تہران حکومت نے خبردار کیا کہ اس کی ریاستی سکیورٹی فورسز کسی بھی دوبارہ شروع ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں سے نمٹنے کے لیےتیار ہیں۔
تیزی سے بدلتے ہوئے حالات نے تاجروں کو خطرے کی درست قیمت لگانے کے بہترین انداز کے تعین میں الجھا کر رکھا ہے۔
کرس ویسٹن، ہیڈ آف ریسرچ، پیپر اسٹون نے کہا ہے کہ "تاجروں کی اکثریت ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی ہے اور مزید خبروں اور واضح صورتحال کے انتظار میں ہے تاکہ خطرے کی قیمت زیادہ موثر طریقے سے لگائی جا سکے" ۔
آسٹریلین ڈالر شرحِ سود میں اضافے کی امیدوں پر تیزی سے اوپر آیا
گزشتہ دو دنوں میں آسٹریلین ڈالر کرنسی مارکیٹ میں سب سے زیادہ حرکت کرنے والا رہا، اور وسطِ 2022 کے بعد کی بلند ترین سطح $0.7182 تک پہنچ گیا۔ یہ آخری بار 0.86 فیصد اضافے کے ساتھ $0.718 پر بند ہوا۔
آسٹریلین ڈالر کے زیادہ تر فائدے ریزرو بینک آف آسٹریلیا کے نائب گورنر اینڈریو ہاؤزر کے منگل کے بیان کے بعد آئے، جنہوں نے خبردار کیا کہ تیل کی قیمتوں میں اُچھال مہنگائی کو بڑھا دے گا اور اگلے ہفتے ہونے والی پالیسی میٹنگ میں شرحِ سود میں اضافے کے لیے دباؤ بڑھائے گا۔
CBA کی کلیفٹن نے کہا ہے کہ "مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نے مرکزی بینکوں کی شرحِ سود کے بارے میں توقعات پر بڑے اثرات مرتب کیے ہیں۔ جب سے جنگ فروری کے آخر میں شروع ہوئی ہے، منڈیاں یا تو کٹوتیوں کی قیمت لگانے سے ہائیکس کی طرف منتقل ہو گئی ہیں، یا پہلے کے مقابلے میں کم قیمت لگا رہی ہیں۔
فیڈ فنڈز فیوچرز ٹریڈرز اب سال کے آخر تک 39.7 بیسس پوائنٹس کی کٹوتیوں کی قیمت لگا رہے ہیں، جو اس بات پر شک ظاہر کرتی ہے کہ آیا امریکی مرکزی بینک اس سال دوسری 25 بیسس پوائنٹ کی کٹ کرے گا یا نہیں۔
پچھلے ہفتے مارکیٹس یورپی سینٹرل بینک کی جانب سے شرحوں میں اضافے کی قیمت لگا رہی تھیں، حالانکہ پالیسی سازوں نے کہا کہ مرکزی بینک کو پالیسی کا ازسرِنو جائزہ لینے کے لیے وقت لینا چاہیے اور فی الحال اپنی موجودہ راہ پر قائم رہنا چاہیے۔
صرف دو ہفتے پہلے، سرمایہ کار توقع کر رہے تھے کہ ای سی بی پورا سال شرحیں مستحکم رکھے گا، جس میں شرح میں کمی کا معمولی امکان تھا۔ مرکزی بینک نے جون 2025 سے شرحیں اسی سطح پر رکھی ہوئی ہیں۔
مارکیٹ کا ایک بڑا مرکز بدھ کو بعد ازاں شائع ہونے والا فروری کا امریکی مہنگائی کا ڈیٹا بھی ہوگا۔ رائٹرز کے پول کیے گئے اقتصادی ماہرین کے مطابق توقع ہے کہ کور صارف قیمتیں اس ماہ 0.2 فیصد بڑھیں گی جبکہ مجموعی قیمتیں 0.3 فیصد اوپر ہوں گی۔
دریں اثنا، تیل کی قیمتوں میں کمی آئی ہے، جب وال اسٹریٹ جرنل نے منگل کو رپورٹ کیا کہ بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے اپنی تاریخ میں سب سے بڑی تیل ریزروز جاری کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔











