اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ غزہ بھر میں جاری اسرائیلی فوجی جارحیت فلسطینیوں کو خطرات میں ڈال رہی ہے اور انسانی ضروریات کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے نائب ترجمان فرحان حق نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اقوامِ متحدہ کا دفتر برائے رابطہ کاریِ انسانی امور خبردار کرتا ہے کہ غزہ بھر میں فوجی حملے فلسطینیوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں اور انسانی ضروریات میں اضافہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سیکیورٹی اور تحفظ کے شراکت داروں نے جمعہ سے اب تک اس طرح کے متعدد واقعات ریکارڈ کیے ہیں، جن میں سے چند کے نتیجے میں عام شہریوں کی ہلاکتیں بھی رپورٹ ہوئی ہیں۔
فرحان حق نے مزید کہا کہ OCHA نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت عام شہریوں اور شہری انفراسٹرکچر کا تحفظ لازمی ہے۔
دوسری جانب، فرحان حق نے بتایا کہ غزہ میں بارودی خطرات کے خلاف کام کرنے والی انسانی ہمدردی کی ٹیموں نے اکتوبر 2023 میں تنازع کے آغاز سے اب تک خطے بھر میں 1,000 سے زائد دھماکہ خیز مواد کی نشان دہی اور مارکنگ کی ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کی کوششوں سے ملبہ ہٹانے، اہم بنیادی ڈھانچے تک رسائی فراہم کرنے اور پانی و نکاسیِ آب کی سہولیات کو دوبارہ فعال کرنے میں مدد ملی ہے ۔
انسانی امور کے شراکت دار اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ان زندگی بچانے والی خدمات کو وسعت دینے اور بچوں اور امدادی کارکنوں سمیت عام شہریوں کو درپیش خطرات کو کم کرنے کے لیے بنیادی سامان اور خصوصی آلات کی ایک وسیع رینج کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دی جانی چاہیے۔
غزہ میں، اکتوبر 2023 سے اب تک 73,000 سے زیادہ فلسطینیوں کو شہید اور 174,000 سے زیادہ کو زخمی کرنے والی اسرائیل کی نسل کشی کو روکنے کے لیے ایک جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا ہے۔
اسرائیل کی اس نسل کشی پر مبنی جنگ نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے جس نے خطے کے 90 فیصد شہری انفراسٹرکچر کو متاثر کیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کا تخمینہ ہے کہ اس کی دوبارہ تعمیر کی لاگت تقریباً 70 ارب ڈالر ہے۔
















