کوسوو اسمبلی کے مطلوبہ ووٹ حاصل کرنے میں ناکامی اور نتیجتاً آئینی مدت کے اندر نئے صدر کے انتخاب میں ناکامی نے ملک کو تیسرے قبل از وقت عام انتخابات کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔
رائے شماری میں صرف حکمران جماعت "تحریکِ خود ارادیت " کے نمائندوں اور غیر سرب اقلیتی نمائندوں نے حصہ لیا۔
گروپ نےدن بھر میں چار نشستیں کیں لیکن ان کے کُل 64 ووٹ، صدر کے انتخاب کے لئے ضروری، 120 رکنی دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے لیے ناکافی رہے۔
وزیرِ اعظم البن کورتی کی جماعت نے دسمبر میں 51 فیصد ووٹ حاصل کئے تھے لیکن کورتی کے تجویز کردہ کسی بھی امیدوار کو بھاری حمایت حاصل نہیں ہو سکی تھی۔
اسمبلی کی اسپیکر اور قائم مقام صدر'البولینا ہاشیو ' نے کہا ہےکہ کوسووو ڈیموکریٹک پارٹی اور کوسووو ڈیموکریٹک لیگ سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں نے مدعو کئے جانے کے باوجود اجلاسوں میں شرکت سے انکار کر دیا تھا۔
کورتی پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ قبل از وقت انتخابات صرف "قانون سازی اور ادارہ جاتی اضطراب کا تسلسل" ہوں گے اور بنیادی طور پر کوئی مختلف نتیجہ نہیں دیں گے ۔
توقع ہے کہ آئندہ دنوں میں ہاشیو قبل از وقت پارلیمانی انتخابات کا اعلان کریں گے۔
آئین کی رُو سے انتخابات کا 45 دن کے اندر منعقد ہونا ضروری ہے۔











