شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا کے مطابق، 19 سال کے طویل عرصے کے بعد کسی اعلیٰ ترین سینیئر شامی سفارت کار کے پہلے دورۂ پاکستان کے تحت شام کے وزیرِ خارجہ اسعدال شیبانی پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔
شیبانی کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطح کا وفد بھی موجود ہے، تاہم ان کی آمد کے بعد منعقد ہونے والی سرگرمیوں کے حوالے سے اب تک مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق، شیبانی اپنے پاکستانی ہم منصب اسحاق ڈار کی دعوت پر بدھ اور جمعرات کے روز پاکستان میں قیام کریں گے۔
وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس دورے کے دوران دونوں فریقین دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرنے والے جامع مذاکرات کریں گے، دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کے طریقوں پر غور کریں گے اور علاقائی و بین الاقوامی حالات پر تبادلۂ خیال کریں گے۔
یہ دورہ پاکستان اور شام کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو آگے بڑھانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔"
یہ دورہ دسمبر 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے کسی شامی عہدیدار کا پاکستان کا سب سے بڑا دورہ ہے، اگرچہ اس دوران شام کی کابینہ کے دیگر ارکان بھی اسلام آباد کا دورہ کر چکے ہیں۔
پاکستان کا دورہ کرنے والے آخری شامی وزیرِ خارجہ ولید المعلم تھےجنہوں نے 2007 میں ملک کا دورہ کیا تھا۔
اسحاق ڈار کے ساتھ ملاقات کے علاوہ، شیبانی کی وزیرِ اعظم شہباز شریف اور دیگر اعلیٰ حکام سے بھی ملاقاتیں متوقع ہیں۔
اسلام آباد اور دمشق نے برسوں سے اپنے تعلقات کو فوجی تعاون اور تربیتی تبادلوں کے ذریعے مضبوط رکھا ہے۔
بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد بھی دمشق میں پاکستان کا سفارت خانہ کھلا رہا، تاہم گزشتہ دو سالوں کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون محدود سطح پر رہا ہے۔



















