جمہوریہ کانگو میں ایبولا وبا کے خلاف جدوجہد جاری ہےاور ہسپتال سے موصول ہونے والی صحت یابی کی خبریں صحت کی عالمی برادری کے لیے امید کی کرن بن گئی ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت 'ڈبلیو ایچ او' نے بونیا شہر میں زیرِ علاج چار نرسوں اور ایک لیبارٹری ملازم کے مکمل طور پر صحت یاب ہو کر ہسپتال سے فارغ ہونے کا اعلان کیا ہے۔
حکام نے کہا ہے کہ بروقت تشخیص اور مناسب طبی نگہداشت زندگیاں بچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ علاوہ ازیں وبا کے سدّباب کی خاطر جاری اقدامات کو مزید تیز کرنے سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ متوقع ہے۔
ویکسین نہ ہونے کے باوجود صحت یابی ممکن
عالمی ادارۂ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈورس ایڈہینم گبریسس نے وبا کے گڑھ، صوبہ ایتوری کے دارالحکومت، 'بونیا' کے دورے کے دوران اہم بیانات جاری کئے ہیں۔ انہوں نے تسلیم کیا ہے کہ ایبولا کی اس مخصوص قسم کے لیے ابھی تک کوئی منظور شدہ ویکسین یا مخصوص علاج موجود نہیں ہے۔تاہم مؤثر طبی نگہداشت اور بروقت مداخلت کے ذریعے اس بیماری کو جان لیوا ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔
ڈائریکٹر جنرل کے مطابق، صحت یاب ہو کر ہسپتال سے فارغ ہونے والے طبی کارکن اس حقیقت کا واضح ثبوت ہیں۔
برازیل اور اٹلی میں الرٹ
وبا سے متاثرہ علاقوں کا سفر کرنے والے افراد کی اپنے ممالک واپسی کے بعد برازیل اور اٹلی میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
برازیل کے ساو پاولو اور ریو ڈی جنیریو شہروں میں تیز بخار کی شکایت کے ساتھ ہسپتال آنے والے دو مریضوں میں گردن توڑ بخار اور ملیریا کی تشخیص ہوئی ہے۔ تاہم صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ تشخیص ایبولا کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کرتی لہٰذا مریضوں کو نگرانی میں رکھا گیا ہے۔
دوسری جانب اٹلی کے جزیرے سارڈینیا میں جمہوریہ کانگو سے لوٹنے والے اور بیماری کی علامات ظاہر کرنے والے ایک مسافر کے لیے ہنگامی طبی پروٹوکول نافذ کر دیئے گئے ہیں۔ اٹلی وزارتِ صحت نے بعد ازاں مریض کا ٹیسٹ منفی آنے کا اعلان کیا اور کہاہے کہ ملک میں ایبولا کا خطرہ اب بھی بہت کم سطح پر ہے۔















