مشرق وسطی
3 منٹ پڑھنے
عراق:بین الاقوامی اتحاد 30 ستمبر تک ملک سے انخلا مکمل کر لے گا
عراقی فوجی ترجمان صباح النعمان نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ بین الاقوامی اتحادی افواج کا عراق سے انخلا تیز ہو گیا ہے اور یہ عمل 30 ستمبر تک مکمل ہونے کی امید ہے۔
عراق:بین الاقوامی اتحاد 30 ستمبر تک ملک سے انخلا مکمل کر لے گا
عراق / Reuters

عراقی فوجی ترجمان صباح النعمان نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ بین الاقوامی اتحادی افواج کا عراق سے انخلا تیز ہو گیا ہے اور یہ عمل 30 ستمبر تک مکمل ہونے کی امید ہے۔

عراقی نیوز ایجنسی  کے مطابق، النعمان نے العراقیہ ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ انخلا کا عمل وزیر اعظم علی فالح الزیدی کے دفتر کے ساتھ براہ راست مربوط ہے اور طے شدہ ٹائم لائن کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے۔

النعمان نے مزید کہا کہ 2014 میں داعش دہشت گرد تنظیم کے خلاف جنگ کے لیے قائم کیے گئے امریکی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد میں شامل جرمن افواج نے حال ہی میں شمالی عراق کے شہر اربیل سے اپنے انخلا کا عمل مکمل کر لیا ہے۔

جرمن افواج 2015 سے اربیل میں تعینات تھیں اور وہ عراقی فورسز کی تربیت کے ساتھ ساتھ ہتھیاروں کے پروگراموں اور فضائی جاسوسی  کی سرگرمیوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے تھیں۔

 بدھ کے روز ان کا یہ انخلا مکمل طور پر ختم ہو گیا۔

النعمان نے واضح کیا کہ انخلا براہ راست وزیر اعظم کے دفتر کے زیر نگرانی ہو رہا ہے، جو روانہ ہونے والی افواج اور آلات کی زمینی و فضائی نقل و حرکت کی نگرانی کرتا ہے۔

اربیل ایئرپورٹ پر جرمن افواج کے زیر استعمال رہنے والی تنصیبات کو اب ایئرپورٹ حکام کے حوالے کر دیا جائے گا۔

النعمان نے اشارہ کیا کہ یہ منتقلی عین الاسد ایئر بیس اور بلد سمیت دیگر سابقہ اتحادی اڈوں کو عراقی وزارت دفاع کے حوالے کیے جانے کے بعد عمل میں آئی ہے، جہاں اتحاد نے اپنے مشن ختم کر دیے تھے۔

عراق نے جنوری میں اتحاد کے مشن کو ختم کرنے کے منصوبے کے پہلے مرحلے کی تکمیل کا اعلان کیا تھا

دوسرا اور آخری مرحلہ، جو 30 ستمبر 2026 تک جاری رہے گا، اربیل سے شام میں داعش کے خلاف آپریشنز کو مدد فراہم کرنے پر مشتمل ہے۔

النعمان نے کہا کہ وزیر اعظم نے ایک کمیٹی قائم کرنے کی بھی ہدایت کی ہے جو 30 ستمبر کے بعد اتحاد میں شامل ممالک کے ساتھ عراق کے تعلقات کی نوعیت کا تعین کرے گی۔

اتحاد کے مشن کو ختم کرنے کا یہ منصوبہ بغداد اور واشنگٹن کے درمیان ستمبر 2024 میں ہونے والے ایک معاہدے پر مبنی ہے۔ یہ معاہدہ اتحادی ممالک کے فوجی مشن کو رکن ممالک کے ساتھ دوطرفہ سیکیورٹی تعلقات میں بتدریج منتقل کرنے کی پیش گوئی کرتا ہے۔

یہ عمل ستمبر 2026 میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔

النعمان نے بتایا کہ روانہ ہونے والی افواج سیکیورٹی کے طریقہ کار پر عمل پیرا ہیں اور راستوں اور منزلوں کو محفوظ بنانے کے لیے مسلسل کوآرڈینیشن فراہم کی جا رہی ہے۔ تمام نقل و حرکت سرکاری منظوریوں کے تابع ہے اور کمانڈر ان چیف کو روزانہ کی رپورٹ پیش کی جاتی ہے۔

امریکی قیادت میں یہ اتحاد 2014 میں اس وقت قائم کیا گیا تھا جب داعش عراق اور شام کے بڑے حصوں پر کنٹرول رکھتی تھی۔ عراق نے دسمبر 2017 میں داعش سے اپنے تمام علاقوں کو واپس لینے کا اعلان کیا تھا، تاہم یہ دہشت گرد تنظیم اب بھی کبھی کبھار حملے کرتی رہتی ہے۔

 

 

دریافت کیجیے
ایرانی حملوں سے مبینہ طور پر مشرق وسطی میں امریکی انٹیلیجنس تنصیبات کو  بھاری نقصان پہنچا ہے
کیوبا- امریکا مذاکرات جمود کا شکار ہیں:ڈیاز کانیل
سعودی عرب اور فرانس: فلسطینی ریاست کے قیام کا اعادہ اور لبنان سے اسرائیلی انخلاء کا مطالبہ
غیر قانونی اسرائیلی آباد کاروں کے حملوں میں 63 فیصد اضافہ
بنگلادیش "مکہ معاہدے" میں دلچسپی رکھتا ہے:ہمایوں کبیر
ہیٹی میں گینگ حملے میں 43 افراد ہلاک
امریکہ-ایران جنگ بندی کو برقرار رکھا جائے: چین و اردن
ایران "مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے": ٹرمپ
صدر ایردوان : "ہم نے اپنے دوستوں اور دشمنوں کو خطے میں عدم استحکامی برداشت نہ کرنے کا پیغام دیا ہے
"دست خدا" گول میں زیر استعمال گیند 33٫5 لاکھ ڈالر میں فروخت
جنوبی تھائی لینڈ میں چار صوبوں میں 70 سے زیادہ مقامات پر آتشزدگی اور بم حملے
اسرائیلی فوج نے تین سالہ جنگ میں 30 سال کے استعمال کے لائق گولیاں استعمال کی ہیں
امریکہ میں، 75 ممالک کے شہریوں پر عائد کردہ امیگرینٹ ویزے پر پابندی کالعدم قرار
امریکہ، ایران کے خلاف ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ میں داخل ہو گیا ہے: بیسنٹ
اسرائیلی فوج کی جنوبی شام میں  ایک نئی فوجی کارروائی