اقوامِ متحدہ کی بحری ایجنسی نے کہا ہے کہ منگل سے اب تک آبنائے ہرمز سے تقریباً 115 بحری جہاز اور 2,500 سمندری عملے کو نکالا جا چکا ہے۔
آرسینیو ڈومِنگیز، سیکریٹری جنرل انٹرنیشنل میرِی ٹائم آرگنائزیشن نے جمعہ کو کہا: "ہم پچھلے تین دنوں میں کم از کم 115 جہازوں کو نکالنے میں کامیاب ہوئے ہیں، جو تقریباً 2,500 سمندری عملے کی نمائندگی کرتے ہیں جو اب محفوظ طریقے سے آبنائےِ ہرمز سے نکل چکے ہیں۔"
ڈومِنگیز نے خبردار کیا کہ جو اعداد و شمار وہ دے رہے ہیں "مکمل طور پر حتمی نہیں ہیں، کیونکہ مجھے ابھی کچھ وقت درکار ہے تاکہ آج صبح ہونے والے کسی بھی گزر و گاہ کی تصدیق کی جا سکے۔"
ترک ٹرانسپورٹ اور انفراسٹرکچر کے وزیر عبدالقادر اورال اولو کے مطابق نکالے جانے والوں میں وہ تمام ترک ملکیت کے جہاز بھی شامل تھے جو اس علاقے میں انتظار کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ 26 جون تک کل 99 ترک عملے کو لے کر 15 جہاز محفوظ طور پر اس علاقے سے روانہ ہو چکے تھے۔
ڈومِنگیز نے کہا کہ ایک جہاز پر حملے کے باعث جمعرات کو آپریشنز روک دیے جانے کے بعد پھنسے ہوئے سمندری عملے کو دوبارہ سے نکالنے کے اقدامات جاری ہیں۔ سیکریٹری جنرل نے کہا کہ جیسے ہی انہیں مزید تصدیق ملتی ہے کہ جہازوں کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا اور تجارت کا بہاؤ جاری رہے گا، وہ فوری طور پر اس عمل دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے پیغامات موصول ہوئے جن میں خبردار کیا گیا تھا کہ ’غیر مجاز راستہ‘ استعمال کرنے پر ’قانونی سزائیں‘ ہوں گی، اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ یہ نہیں جانتے کہ یہ سزائیں دراصل کیا ہوں گی۔
آئی ایم او نے جمعرات کو کہا کہ خلیجِ عمان میں ایک جہاز پر حملے کے بعد اس نے تنگہِ ہرمز میں پھنسے سمندری عملے کی نکاسی کے منصوبے کو معطل کر دیا تھا۔
ڈومِنگیز نے جمعرات کو امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا: İمجھے آج خلیجِ عمان میں ایک حملے کی اطلاع ملی ہے۔ سمندری عملے کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔"
جمعرات کے اوائل میں برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (UKMTO) سنٹر نے کہا تھا کہ عمان کے ساحل کے قریب ایک کارگو جہاز پر نامعلوم پروجیکٹائل سے حملہ کیا گیا، جس سے جہاز کے برج کو نقصان پہنچا۔ کوئی جانی نقصان یا ماحولیاتی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔


















