امریکہ اور چین کے درمیان تائیوان کے معاملے پر ممکنہ تصادم کےایٹمی سطح تک بڑھنے کا خطرہ ہے۔
لندن کے معروف دفاعی تحقیقی مرکز 'انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز ' نے آج بروز جمعرات خبردار کیا ہے کہ تائیوان کے معاملے پر امریکہ اور چین کے درمیان جنگ ایٹمی سطح تک پہنچ سکتی ہے اور دونوں ممالک کی افواج ایک دوسرے کے کمانڈ اور مواصلاتی مراکز کو نشانہ بنانے والی وسیع پیمانے کی فوجی کارروائیاں کر سکتی ہیں۔
انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز (IISS) نے اس ہفتے کے آخر میں سنگاپور میں متوقع ایشیا کی سب سے بڑی سالانہ دفاعی کانفرنس سے قبل جاری کردہ اسٹریٹجک رپورٹ میں کہا ہے کہ دنیا ایٹمی ہتھیاروں کی ایک نئی دوڑ کے دہانے پر کھڑی ہے اور ایشیا بحرالکاہل خطہ اس دوڑ کا مرکز بن چکا ہے۔
IISS نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ "خطے کے ممالک اور اسٹریٹجک مفادات رکھنے والے فریق اپنے ایٹمی ذخائر میں اور غیر ایٹمی ریاستیں دُور مار روایتی حملہ آور صلاحیتوں میں اضافہ کر رہی ہیں ۔ یہ دونوں رجحانات اسٹریٹجک استحکام کے لیے خطرہ بن رہے ہیں"۔
امریکی یا چینی حکام کی جانب سے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
توقع ہے کہ تائیوان، ایران میں جاری کشیدگی اور خطے کے حوالے سے امریکی وعدوں پر غیر یقینی صورتحال، IISS کے شنگریلا ڈائیلاگ کے سرفہرست موضوعات ہوں گے۔
29 سے 31 مئی تک جاری رہنے والی یہ غیر سرکاری کانفرنس وزرائے دفاع، جرنیلوں، انٹیلی جنس سربراہان، سفارت کاروں، تجزیہ کاروں اور اسلحہ ساز کمپنیوں کے نمائندوں کو ایک جگہ جمع کرے گی۔
اجلاس چین کے صدر شی جن پنگ اور امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اس ماہ کے آغاز میں بیجنگ میں منعقدہ ملاقات کے بعد ہو رہا ہے۔ اس ملاقات کے بعد تائیوان میں اس بات پر تشویش پیدا ہوئی تھی کہ آیا امریکہ جمہوری طرز حکومت رکھنے والے جزیرے کے دفاع کے ساتھ حمایت جاری رکھے گا یا نہیں۔
اگرچہ بیجنگ "پرامن اتحاد" کو ترجیح دینے کی بات کرتا ہے لیکن اس نے کبھی بھی تائیوان کو اپنے کنٹرول میں لینے کے لیے طاقت کے استعمال کے امکان کو مسترد نہیں کیا ۔ دوسری جانب تائیوان حکومت، چین کے خودمختاری کے دعووں کو مسترد کرتی ہے۔
چین نے جزیرے کے اطراف میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کرکے تائیوان پر دباؤ میں مزید اضافہ کر دیا ہےتو دوسری طرف سربراہی اجلاس کے بعد تائیوان نے اقتصادی، سیاسی، تعلیم اور ثقافتی مرکز ' تائی پے' کو چین کی نئی سرگرمیوں کے خلاف ہائی الرٹ کر دیا ہے۔








