ثقافت
2 منٹ پڑھنے
ترک ہلال احمر عالمی انسانی دوستانہ کوششوں کی بدولت مظلوم انسانوں کے دلوں میں گھر کر رہا ہے: ایردوان
ترک  ہلال احمر نے اس محصور علاقے میں  جہاں، "نیتن یاہو کی قیادت میں صہیونی نسل کشی  نیٹ ورک"  کا بازار گرم ہے کو  26,000 ٹن سے زائد امدادی سامان پہنچایا ہے
ترک ہلال احمر عالمی انسانی دوستانہ کوششوں کی بدولت مظلوم انسانوں کے دلوں میں گھر کر رہا ہے: ایردوان
"ترکیہ یہ یقینی بنانے کے لیے اپنے بس میں سب کچھ کرے گا کہ قتلِ عام کے نیٹ ورک کو قانون اور تاریخ کے سامنے جوابدہ ٹھہرایا جائے،" ان کا کہنا ہے۔ / AA

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ ترک ہلالِ احمرنے اپنی انسان دوستانہ سرگرمیوں کے ذریعے دنیا کے مختلف تنازعہ زدہ علاقوں کے لوگوں کی یادوں میں ایک دائمی مقام حاصل کر لیا ہے۔

صدر ایردوان نے انقرہ میں منعقدہ ترک ہلال احمر کے ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ " اس تنظیم نے فلسطین، بوسنیا، افغانستان، صومالیہ، عراق اور شام میں اپنے کام کی بدولت   ان ممالک کے  بھائی بہنوں کی یادوں میں گھر کیا ہے۔"

غزہ میں تنظیم کی کوششوں کو اجاگر کرتے ہوئے ایردوان نے کہا کہ ترک  ہلال احمر نے اس محصور علاقے میں  جہاں، "نیتن یاہو کی قیادت میں صہیونی نسل کشی  نیٹ ورک"  کا بازار گرم ہے کو  26,000 ٹن سے زائد امدادی سامان پہنچایا ہے ۔

انہوں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 7 اکتوبر کے بعد سے ترک ہلال احمر نے  نے غزہ میں فلسطینیوں کو پندرہ ملین گرم کھانے فراہم کیے اور روزانہ 30,000 افراد کو گرم کھانا تقسیم کیا ہے۔

ایردوان نے کہا کہ ترکیہ اپنے انسان دوستانہ امداد اور جواب دہی کو یقینی بنانے کی کوششوں کو جاری رکھے گا۔

انہوں نے کہا کہ "ترکیہ، مظلومین کے ہاتھ تھامتے ہوئے، قانون اور تاریخ کے سامنے قتل عام کے اس نیٹ ورک کو جواب دہ ٹھہرانے کے لیے اپنی پوری کوشش  صرف کرے گا۔"

انہوں نے اُن لوگوں کو خبردار بھی کیا جو، اُن کے بقول، نازی جرمنی کے رہنما کے راستے پر چل رہے ہیں۔

ترک صدر نے کہا کہ "جو لوگ ہٹلر کے نقشِ قدم پر چلتے ہیں انہیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اگر وہ اسی راستے پر چلتے رہے تو اُن کامقدر  تاریخ کے دیگر جابر حکمرانوں جیسا  ہو گا۔"

انہوں نے مزید کہا کہ "موجودہ انتظامیہ کے تحت، اسرائیل اشتعال انگیزی کا ایک کارخانہ بن چکا ہے، جس کا واحد خام مال خون اور آنسو، بے استحکام اور افراتفری ہے۔"