کینیا کے وسطی علاقے ناکورو میں واقع اوٹومیشی گرلز اکیڈمی کے ایک ہاسٹل میں رات کے وقت لگنے والی تباہ کن آگ کے نتیجے میں کم از کم 15 طالبات ہلاک اور 73 زخمی ہو گئی ہیں۔
کینیا کے ٹی وی چینل 'سٹیزن ٹیلی ویژن' نے جمعرات کو نشر کردہ خبر میں کہا ہے کہ رفٹ ویلی کے علاقائی پولیس انسپیکٹر سموئل نڈانی نے اموات کی تصدیق کی ہے اور امدادی کارروائیوں کے دوام کے دوران اموات میں اضافے کا اندیشہ ظاہر کیا ہے۔ زخمیوں کی حتمی تعداد ابھی واضح نہیں ہو سکی۔
رفٹ ویلی کے علاقے میں واقع 'ناکورو' ملک کے بڑے شہری مراکز میں سے ایک ہے اور کینیا کے دارالحکومت نیروبی سے تقریباً 160 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایمرجنسی ٹیمیں، پولیس اہلکار اور انسانی امدادی تنظیمیں اسکول پہنچ گئی ہیں۔متاثرین کے اہلِ خانہ بھی لاپتہ طالبات کے بارے میں معلومات کے انتظار میں علاقے میں جمع ہیں۔
کینیا ریڈ کراس نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "ہماری ہنگامی حالات امدادی ٹیمیں، ایمبولینس عملہ اور نفسیاتی معاونت فراہم کرنے والاعملہ دیگر امدادی اداروں اور متعلقہ حکام کے ساتھ متاثرہ طالبات کی مدد کے لیے اس وقت موقع پر موجود ہے"۔
حفاظتی معیاروں پر تشویش
جمعرات کی صبح تک حکام آگ لگنے کی وجہ معلوم نہیں کر سکے۔ جائے وقوعہ پر امدادی کارروائیاں اور ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہےاور واقعے کی تحقیقات بھی شروع کر دی گئی ہیں۔
کینیا میں اسکولوں میں آگ لگنے کے واقعات وقتاً فوقتاً پیش آتے رہتے ہیں جس کے باعث ہاسٹلوں میں حفاظتی انتظامات، زیادہ بھیڑ اور بورڈنگ اسکولوں میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاریوں پر تشویش بڑھ گئی ہے۔
ماضی کے کئی واقعات میں ہاسٹلوں میں محصوررہ جانے والے طلبہ کی بڑی تعداد جان سے ہاتھ دھو بیٹھی تھی۔
ستمبر 2024 میں نییری کے علاقے میں واقع ہِل سائڈ اینداراشا اکیڈمی کے ایک ہاسٹل میں آگ لگنے سے کم از کم 21 لڑکے ہلاک ہو گئے تھے اور یہ واقعہ حالیہ برسوں میں ملک میں اسکولوں میں آتشزدگی کے بدترین واقعات میں سے ایک تھا۔









