امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور اپنے مشیر جیرڈ کشنر کا، ایران کے حکام سے مذاکرات کے لیے، متوقع دورہ پاکستان منسوخ کر دیا ہے۔
فوکس نیوز سے گفتگو میں ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے روانگی سے کچھ ہی دیر پہلے اس سفر کو منسوخ کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ "کچھ دیر قبل کہ جب میرے بندے دورہ پاکستاں کی تیاریوں میں تھے میں نے ان سے کہا ہے کہ نہیں، آپ وہاں جانے کے لیے 18 گھنٹے کی پرواز نہیں کریں گے۔سب پتّے ہمارے ہاتھ میں ہیں۔ وہ جب چاہیں ہمیں فون کر سکتے ہیں لیکن آپ محض بے نتیجہ باتوں کے لیے 18 گھنٹے کی پرواز نہیں کریں گے۔"
ایک علیحدہ ٹیلیفونک انٹرویو میں ایکسیوس سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا ہے کہ" مجھے اپنے بندے بھیجنے میں کوئی فائدہ نظر نہیں آتا کیونکہ مذاکرات اسی آسانی کے ساتھ دُور سے بھی کئے جا سکتے ہیں"۔
ٹرمپ نے کہا ہے کہ "ہم یہ کام فون پر بھی اتنی ہی اچھی طرح کر سکتے ہیں۔ ایرانی اگر چاہیں تو ہمیں کال کر سکتے ہیں۔ ہم صرف وہاں بیٹھنے کے لیے سفر نہیں کریں گے۔"
ایکسیوس کے اس سوال کے جواب میں کہ کیا اس کا مطلب جنگ کا دوبارہ آغاز ہے؟ ٹرمپ نے کہا کہ "نہیں، اس کا یہ مطلب نہیں ہے۔ ہم نے ابھی اس بارے میں نہیں سوچا "۔
پہلا مذاکراتی دور دو ہفتے قبل اسلام آباد میں طے پایا لیکن 28 فروری کو شروع ہونے اور پورے مشرقِ وسطیٰ میں پھیلنے والے تنازعے کےخاتمے کے لیے کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا تھا۔ یہ مذاکرات پاکستان کے زیرِ ثالثی اور 8 اپریل کو ہونے والی دو ہفتوں کی جنگ بندی کے دوران ہوئے تھے۔ بعد ازاں ٹرمپ نے اس جنگ بندی کی مدّت میں توسیع کر دی تھی۔
ایران نے براہِ راست مذاکرات میں شرکت سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے مؤقف پاکستان کے ذریعے پہنچائے جائیں گے۔
اختلافی نکات میں آبنائے ہرمز، ایران کی بندرگاہوں پر امریکہ کی جانب سے عائد پابندیاں اور ایران کا افزودہ یورینیم شامل ہیں۔










