ایران کی وزارتِ خارجہ نے گزشتہ روز امریکہ پر الزام لگایا ہے کہ اس نے کویت اور بحرین میں قائم اپنے فوجی اڈوں سے آبنائے ہرمز میں ایران کے ایک آئل ٹینکر اور جزیرہ قشم پر ایک مواصلاتی ٹاور پر حملے کیے ہیں۔
نیم سرکاری خبر رساں ادارے 'فارس' کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں وزارتِ خارجہ نے ٹینکر اور مواصلاتی تنصیب پر "دہشت گرد امریکی فوج کے جارحانہ اقدام" کی شدید مذمت کی ہے۔
وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ حملے بدھ کی صبح "خطے کے دو ممالک" سے کیے گئے، جس کے بعد انہوں نے کویت اور بحرین کا نام لیا۔
وزارت نے واشنگٹن پر الزام لگایا کہ وہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں کرنے کے لیے علاقائی ممالک کی سرزمین اور سہولیات کا استعمال کر رہا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ کویت اور بحرین کی حکومتیں ان حملوں کی "براہِ راست اور واضح ذمہ دار" ہیں۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق، یہ حملے 8 اپریل کی جنگ بندی کی خلاف ورزی اور "بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 2(4) کی خلاف ورزی ہیں، جو ریاستوں کی علاقائی سالمیت یا سیاسی آزادی کے خلاف طاقت کے استعمال کو ممنوع قرار دیتا ہے۔"
بیان میں مزید کہا گیا کہ کوئی بھی ایسا ملک جو جارح فریقین کو اپنی زمین، سمندر، فضائی حدود یا اپنی سرزمین پر واقع سہولیات اور اڈوں کو ایران کے خلاف فوجی جارحیت کرنے یا اس کی حمایت کرنے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے، وہ بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں اور حُسنِ جوار کی کھلی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
وزارت نے کہا کہ "اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد 3314 کے تحت اس طرح کے طرزِ عمل کو ایران کے خلاف جارحیت کا اقدام تصور کیا جاتا ہے۔"












