امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ فلسطینی مزاحمتی گروہ حماس کے غیر مسلح ہونے کے حوالے سے "حوصلہ افزا اشارے" موجود ہیں اور یہ بتایا کہ محصور غزہ کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کی تمام تر کامیابی اسی اقدام پر منحصر ہے۔
روبیو نے Fox News کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ میں جانتا ہوں کہ مصر اور ترکیہ اس عمل میں شامل رہے ہیں۔ اواخر ہفتہ کے دوران کچھ حوصلہ افزا اشارے ملے ہیں کہ ہم ان کے غیر مسلح ہونے کے حوالے سے ایک معاہدے کے قریب پہنچ رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس پورے منصوبے کی کامیابی صرف اسی صورت میں ممکن ہے اگر حماس غیر مسلح ہو جائے جب تک ایسا نہیں ہوتا سب کچھ سوالیہ نشان میں ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر حماس ہتھیار نہ ڈالے تو کیا واشنگٹن اسرائیل کی غزہ پر جنگ دوبارہ شروع کرنے کی حمایت کرے گا، تو روبیو نے کہا کہ وہ اس بارے میں قیاس آرائی نہیں کریں گے کہ صدر مستقبل میں کسی نظریاتی صورتحال میں کیا حمایت کریں گے یا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ ہم اس سے بچ سکیں گے یہ وہ نتیجہ نہیں ہے جو ہم چاہتے ہیں، ہم یہ چاہتے ہیں کہ حماس غیر مسلح ہو جائے اور ایک فلسطینی سیکیورٹی فورس جسے ایک بین الاقوامی سیکیورٹی فورس کی حمایت حاصل ہوغزہ کو محفوظ بنانے کے قابل ہو۔"
حماس کے ترجمان حازم قاسم نے گزشتہ ہفتے انادولو ایجنسی کو بتایا کہ غیر مسلح ہونے پر اصرار کرنا اور غزہ جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کی ضروریات کو نظر انداز کرنا غزہ کے لیے ٹرمپ کے منصوبے سے متصادم ہے۔
ان کے مطابق ایسا کرنا دوسرے مرحلے پر مذاکرات کو پیچیدہ بنا دیتا ہے۔"
قاسم کے یہ تاثرات گزشتہ ہفتے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ہونے والی ایک ملاقات کے بعد سامنے آئے، جس میں غزہ میں حماس کے اعلیٰ عہدیدار خلیل الحیہ، مصری حکام، امن بورڈ میں غزہ کے لیے اعلیٰ نمائندہ نکولے ملادینوف اور امریکی سینئر مشیر آریہ لائٹ اسٹون شریک تھے۔
حماس کے ترجمان نے مزید کسی بھی بحث سے پہلے پہلے مرحلے کی ذمہ داریوں پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔
گزشتہ ستمبر، ٹرمپ نے غزہ پر اسرائیل کی نسل کش جنگ کے خاتمے کے لیے ایک منصوبہ اعلان کیا تھا۔ پہلے مرحلے میں جنگ بندی، اسرائیلی افواج کا جزوی انخلا، محصور علاقے میں باقی اسرائیلی قیدیوں کی رہائی اور روزانہ 600 امدادی ٹرکوں کا داخلہ شامل تھا۔
حماس کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس نے پہلے مرحلے کے تحت اسرائیلی قیدیوں کو رہا کر کے اپنی ذمہ داریاں پوری کیں لیکن اسرائیل اپنی انسانی ہمدردی کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ناکام رہا اور اس نے اپنے حملے جاری رکھے، جن میں 786 فلسطینی شہید اور 2,217 دیگر زخمی ہوئے۔









