دنیا
3 منٹ پڑھنے
امکان ہےکہ حماس غیر مسلح ہو جائے گی:مارکو روبیو
روبیو نے Fox News کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ میں جانتا ہوں کہ مصر اور ترکیہ اس عمل میں شامل رہے ہیں۔ اواخر ہفتہ کے دوران کچھ حوصلہ افزا اشارے ملے ہیں کہ ہم ان کے غیر مسلح ہونے کے حوالے سے ایک معاہدے کے قریب پہنچ رہے ہیں۔
امکان ہےکہ حماس غیر مسلح ہو جائے گی:مارکو روبیو
مارکو روبیو

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ فلسطینی مزاحمتی گروہ حماس کے غیر مسلح ہونے کے حوالے سے "حوصلہ افزا اشارے" موجود ہیں اور یہ بتایا کہ محصور غزہ کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کی تمام تر کامیابی اسی اقدام پر منحصر ہے۔

روبیو نے Fox News کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ میں جانتا ہوں کہ مصر اور ترکیہ اس عمل میں شامل رہے ہیں۔ اواخر ہفتہ کے دوران کچھ حوصلہ افزا اشارے ملے ہیں کہ ہم ان کے غیر مسلح ہونے کے حوالے سے ایک معاہدے کے قریب پہنچ رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا   کہ   اس پورے منصوبے کی کامیابی صرف اسی صورت میں ممکن ہے اگر حماس غیر مسلح ہو جائے جب تک ایسا نہیں ہوتا سب کچھ سوالیہ نشان میں ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر حماس ہتھیار نہ ڈالے تو کیا واشنگٹن اسرائیل کی غزہ پر جنگ دوبارہ شروع کرنے کی حمایت کرے گا، تو روبیو نے کہا کہ وہ اس بارے میں قیاس آرائی نہیں کریں گے کہ صدر مستقبل میں کسی نظریاتی صورتحال میں کیا حمایت کریں گے یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ ہم اس سے بچ سکیں گے یہ وہ نتیجہ نہیں ہے جو ہم چاہتے ہیں، ہم یہ چاہتے ہیں کہ حماس غیر مسلح ہو جائے اور ایک فلسطینی سیکیورٹی فورس جسے ایک بین الاقوامی سیکیورٹی فورس کی حمایت حاصل ہوغزہ کو محفوظ بنانے کے قابل ہو۔"

حماس کے ترجمان حازم قاسم نے گزشتہ ہفتے انادولو  ایجنسی کو بتایا کہ غیر مسلح ہونے پر اصرار کرنا اور غزہ جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کی ضروریات کو نظر انداز کرنا غزہ کے لیے ٹرمپ کے منصوبے سے متصادم ہے۔

 ان کے مطابق ایسا کرنا دوسرے مرحلے پر مذاکرات کو پیچیدہ بنا دیتا ہے۔"

قاسم کے یہ  تاثرات  گزشتہ ہفتے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ہونے والی ایک ملاقات کے بعد سامنے آئے، جس میں غزہ میں حماس کے اعلیٰ عہدیدار خلیل الحیہ، مصری حکام، امن  بورڈ  میں غزہ کے لیے اعلیٰ نمائندہ نکولے ملادینوف اور امریکی سینئر مشیر آریہ لائٹ اسٹون شریک تھے۔

حماس کے ترجمان نے مزید کسی بھی بحث سے پہلے پہلے مرحلے کی ذمہ داریوں پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔

 گزشتہ ستمبر، ٹرمپ نے غزہ پر اسرائیل کی نسل کش جنگ کے خاتمے کے لیے ایک منصوبہ اعلان کیا تھا۔ پہلے مرحلے میں جنگ بندی، اسرائیلی افواج کا جزوی انخلا، محصور علاقے میں باقی اسرائیلی قیدیوں کی رہائی اور روزانہ 600 امدادی ٹرکوں کا داخلہ شامل تھا۔

حماس کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس نے پہلے مرحلے کے تحت اسرائیلی قیدیوں کو رہا کر کے اپنی ذمہ داریاں پوری کیں لیکن اسرائیل اپنی انسانی ہمدردی کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ناکام رہا اور اس نے اپنے حملے جاری رکھے، جن میں 786 فلسطینی شہید اور 2,217 دیگر زخمی ہوئے۔

 

 

 

 

دریافت کیجیے
روس میں لیبارٹری ملازمہ کی مشکوک موت سے وبا کا خدشہ پیدا
دہشتگردی کا خطرہ،امریکہ نے B-1 طیارے برطانیہ سے ہٹا دیئے
قاتل اسرائیل، 2023 سے اب تک، مقبوضہ مغربی کنارے پر تقریباً 63 ہزار حملے کر چکا ہے
ترکیہ: 21 ممالک نے انطالیہ اعلامیہ منظور کر دیا
حماس کے رہنما کے قتل کی ناکام کوشش  عیسائی ماں اور بیٹی ہلاک
غیر ملکی شہری اور سفارت کار کیف چھوڑ دیں:روس
ٹرمپ:ایران جوہری ہتھیار کے منصوبے سے تقریباً دستبردار ہو چکا ہے
یمنی فوج کے حوثیوں کے اہم مراکز پر حملے
اسرائیل کے غزہ میں ایک فلیٹ پر حملے میں پانچ افراد لقمہ اجل
پاکستان: 6 سے زیادہ ممالک مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہونے میں دلچسپی رکھتے ہیں
ہزاروں کی تعداد میں 'کاکروچ' کارکنان نے مودی کے الیکشن چیف کے استعفی کا مطالبہ کیا
سرحدی بارودی سرنگ سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے تو شمالی کوریا نے ایک بیلسٹک میزائل داغا
امریکی عہدیدار ایران کے خلاف اقدامات پر بات چیت کے لیے کیمپ ڈیوڈ میں یکجا ہوئے، ایکسیوس
ٹرمپ کا ترکیہ پر عائد CAATSA پابندیوں کو ہٹانے پر مثبت موقف کا مظاہرہ
بھارت نے پنجاب کی سرحدوں کے قریب دو پاکستانی شہریوں کو  مار ڈالا