دنیا
3 منٹ پڑھنے
فلسطین تحریکِ مزاحمت 'حماس' معاہدے پر کاربند ہے: کشنر
فلسطینی گروپ 'حماس' جنگ بندی معاہدے کے تحت "نیک نیتی" سے کام کر رہا ہے: جیرڈ کشنر
فلسطین تحریکِ مزاحمت 'حماس' معاہدے پر کاربند ہے: کشنر
Gaza City amid a ceasefire between Israel and Hamas. / Reuters

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور غزہ جنگ بندی معاہدے کے اہم مذاکرہ  کار 'جیرڈ کشنر' نے کہا ہے کہ فلسطینی گروپ 'حماس' جنگ بندی معاہدے کے تحت "نیک نیتی" سے کام کر رہا ہے۔

اتوار کو سی بی ایس پر نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں کشنر نے کہا  ہےکہ امریکہ، اسرائیل اور ثالث ممالک مل کر معاہدے کے نفاذ کی نگرانی کر رہے ہیں۔ یہ معاہدہ  غزہ میں حماس کی تحویل  میں موجود زندہ اور مردہ اسرائیلی قیدیوں  کی بازیابی کا بھی احاطہ کرتا ہے۔

اس سوال کے جواب میں  کہ آیا حماس معاہدے کی پاسداری کر رہا ہے؟ کشنر  نے کہا ہے کہ "ثالثوں سے موصول معلومات کے مطابق وہ اب تک معاہدے کی پابندی  کر رہے ہیں۔ اگرچہ وہ،   کسی بھی وقت ناکام ہو سکتے ہیں  لیکن اس وقت تک ہم نے دیکھا ہے کہ وہ اپنے معاہدے کی پاسداری کرنے کی کوشش کر رہے ہیں"۔

اس وقت ٹرمپ انتظامیہ کے غیر رسمی مشیر  'کشنر' نے کہا  ہےکہ واشنگٹن دونوں فریقوں پر زور دے رہا ہے کہ وہ ایک دوسرے کو ناکامیوں کا ذمہ دار ٹھہرانے کی بجائے مسائل کے حل کے لیے فعال طور پر کام کریں ۔ انہوں نے جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے دوران استحکام برقرار رکھنے کے مقصد پر زور دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ قیدیوں کی باقیات کی بازیابی میں پیش رفت ، اسرائیلی حکام اور قطر، مصر اور ترکیہ کے ثالثوں کے غزہ میں حماس کے عہدیداروں کو معلومات فراہم کرنے سے ممکن ہو سکے گی۔

دوسری جانب، باوجودیکہ  اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں ،ٹرمپ نے کہا  ہےکہ غزہ میں جنگ بندی اب بھی نافذ العمل ہے ۔ انہوں نے اس بات پربھی  زور دیا ہے کہ واشنگٹن ،اسرائیل اور حماس کے درمیان مسلسل سکون کو یقینی بنانا چاہتا ہے۔

مشرق وسطیٰ کے لئے امریکہ کے خصوصی ایلچی' اسٹیو وٹکوف' نے کہا  ہےکہ جنگ کے بعد غزہ   کی تعمیر نو کے لیے ایک "ماسٹر پلان" پہلے ہی تیار ہے۔ تعمیر نو کی کوششیں ایک شفاف اور علاقائی حمایت یافتہ عمل کے ذریعے کی جائیں گی۔ تعمیرِ نو کے عمل میں عرب اور بین الاقوامی شراکت دار شامل ہوں گے۔

سی بی ایس پر ایک انٹرویو میں وٹکوف نے کہا ہے کہ اس منصوبے کی لاگت تقریباً 50 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے اور اس  کا مقصد جنگ بندی معاہدے کے بعد غزہ کے بنیادی ڈھانچے کو بحال کرنا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ "میرے خیال میں اس پر کافی رقم خرچ ہوگی۔ مصارف کا تخمینہ 50 ارب ڈالر کے قریب ہے۔ اگرچہ اس میں کچھ کمی بیشی ہو سکتی  ہے لیکن اس خطے میں یہ رقم زیادہ نہیں ہے۔ ایسی  حکومتیں موجود   ہیں جو تعمیرِ نو کے عمل میں  شامل ہونے کے لیے تیار ہیں"۔

دریافت کیجیے
ترکیہ کی طرف سے چار فلسطینیوں کی ہلاکت اور اسرائیل کی 'نسل کشی پالیسی' کی مذمت
شمال مغربی پاکستان میں پولیس چوکی پر دہشت گرد حملہ، 15 افراد لقمہ اجل
اقوام متحدہ کے سربراہ کا 17 سال بعد دورہ دمشق
ٹرمپ: اب ایران مذاکرات کے لیے زیادہ سنجیدگی سے کام لے رہا ہے
شمالی یوکرین میں سومی ڈاک خانے پر روسی ڈراون حملے میں 2 افراد ہلاک
فرانس اور ہسپانیہ میں بے قابو ہونے والی جنگلات کی آگ کے باعث دو لاکھ افراد فرار
ترکیہ: یوروفائٹر ٹائیفون کی تربیت کے لئے پہلا پائلٹ گروپ برطانیہ بھیجا جا رہا ہے
ایران، جنگ کی بھاری قیمت چُکا رہا ہے: روبیو
امریکی اسٹاک مرکیٹوں میں تناو، تیل 100 ڈالر سے اوپر چلا گیا
اسرائیلی فوج نے تین فلسطینیوں کو قتل کر کے لاشیں قبضے میں لے لیں
روسی گودام پر یوکرینی ڈرون حملے
جاپان امید کرتا ہے کہ فلسطین کے لیے حمایت میں اضافہ ہوگا
ترکیہ COP31 پروگرام میں رضاکار بننے کے لیے درخواستیں جاری
چین نے آبنائے تائیوان میں دو روزہ فوجی مشقیں شروع کر دیں
ایران: ہمارا دفاعی نظریہ بالکل واضح ہے، "آنکھ کے بدلے آنکھ"