اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹزنے کہا ہے کہ محصور غزہ میں بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی کو دیکھ کر انہیں اچھا لگتا ہے۔
انہوں نے اس صورتحال کو خطرات کے خاتمے کے لیے بنائی گئی ایک دانستہ پالیسی کا نتیجہ قرار دیا۔
اسرائیلی چینل 14 پر نشر ہونے والے شمالی غزہ کے ایک دورے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کاٹز نے اس علاقے میں فوج سے منسلک تین چوکیاں قائم کرنے کے منصوبوں کا بھی اعلان کیا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ غزہ میں تباہی کے مناظر دیکھ کر کیسا محسوس کرتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ ایک اچھا احساس ہے انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ تباہی خطرات کو ختم کرنے کی ایک دانستہ پالیسی کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اسرائیل نے ماضی کی اس حکمتِ عملی کو ترک کر دیا ہے جس میں عارضی حملے کر کے واپس آ جایا جاتا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام سیکیورٹی کی وجوہات کی بنا پر ضروری ہے، جو وقت آنے پر اسرائیلی کنٹرول کو مضبوط کرے گا اور قریبی بستیوں کا دفاع یقینی بنائے گا۔
واضح رہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک اس محصور علاقے میں جاری کارروائیوں کے دوران اسرائیل 73,000 سے زائد فلسطینیوں کو شہید اور 173,000 سے زائد کو زخمی کر چکا ہے، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ اس کے علاوہ غزہ کا بڑا حصہ کھنڈر بن چکا ہے اور وہاں کی پوری آبادی بے گھر ہو چکی ہے۔

















