امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اعلیٰ ایرانی حکام نے میرے ساتھ رابطہ کیا ہے۔
فوکس نیوز کے لئے جاری کردہ بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایرانی حکام نے براہِ راست مجھے فون کیا اور بمباری کو روکنے کی درخواست کی ہے۔
اس ملاقات کو،ٹرمپ اور تہران قیادت کے درمیان نارداً ہونے والی براہِ راست ملاقاتوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے جو صدر ٹرمپ کی طرف سےجاری کردہ اس بیان کے بعد ہوئی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ واشنگٹن نے دن بھر میں ایران پر 'سخت' اور 'بھاری' حملے کئے ہیں۔
ٹرمپ نے فاکس نیوز کو بتایا ہےکہ ایران کے ریڈاراور فضائی دفاعی نظاموں کو ہدف بنانے والے اس امریکی آپریشن میں 49 ٹومہاک میزائلوں کے ساتھ ساتھ لڑاکا طیاروں کا بھی استعمال کیا گیا ہے۔
خبروں کے مطابق میزائلوں نے تہران سے تقریباﹰ 65 کلومیٹر مسافت پر واقع مقامات اور خلیجِ فارس کی جنوب مغربی ساحلی پٹّی پر واقع مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔
ٹرمپ نے خبردار کیا ہےاگریادداشتِ مفاہمت طے نہ پائی تو بمباری کل رات بھی جاری رہے گی۔ اور دھمکی دی ہے کہ ، "ہم کل انہیں تباہ کر دیں گے"۔
تہران نے امریکی دعوے مسترد کردیئے
تاہم ایران نے ٹرمپ کے اس دعوے کو غلط قرار دیا اور مسترد کر دیا ہے کہ ایرانی حکام نے ان سے ملک پر بمباری بند کرنے کو کہا ہے ۔
ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے ایک سینئر ایرانی اہلکار کے حوالے سے کہا ہے کہ ٹرمپ کے بیانات، امریکہ کی تہران کے ساتھ جنگ میں، پسپائی کی پردہ پوشی کرنے کی کوشش ہیں۔
یہ بیانات اس کشیدگی کے دوران سامنے آئے ہیں کہ جب امریکہ نے جنوبی ایران پر حملے کئے اور اس کے بعد ایران نے خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنا کر جوابی حملے کئے ہیں۔
خطہ امریکہ کے لیے 'جہنم' بن جائے گا
ایران نےآبنائے ہرمز کے گرد بڑھتے ہوئے تناؤ کے حوالے سے خبردار کیا ہے کہ خطہ امریکہ کے لیے 'جہنم' بن جائے گا۔
خبررساں ایجنسی مہر نیوز کی خبر کے مطابق اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے ایروسپیس فورس کے کمانڈر سید مجید موسوی نے 'مقدس آبنائے ہرمز' کو خطرے میں ڈالنے کی کوششوں کے خلاف خبردار کیا اور کہا ہے کہ"اگر تم آبنائے ہرمز کو غیر محفوظ کرو گے تو ہم ایران کے چاروں طرف سے خطے کو تمہارے لئے جہنم بنا دیں گے"۔
موسوی نے کہا ہے کہ یہ ارننگ خطے میں 'امریکی گستاخی' کا جواب ہے۔
قبل ازیں جاری کردہ بیان میں آئی آر جی سی نے کہا تھا کہ کویت کے علی السالم اور احمد الجابر اڈوں اور بحرین کے شیخ عیسیٰ اڈے پر 18 بڑے امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔









