اقوامِ متحدہ کے جوہری نگراں ادارے کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں براکہ جوہری پاور پلانٹ پر براہِ راست حملہ سنگین تابکار نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
اس تنصیب کو نشانہ بنانے والے حالیہ ڈرون حملے کے بعد اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رافیل گروسی نے کہا کہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔
گروسی نے کہا کہ یہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک جوہری مقام ہے، جہاں کسی حملے کے نتائج انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ براکہ پلانٹ جو دارالحکومت سے لگ بھگ 300 کلومیٹر دور ہےایک فعال جوہری تنصیب ہے جس میں ہزاروں کلو گرام جوہری مواد موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ پر حملے کی صورت میں کوئی بھی براہِ راست نشانہ ماحول میں بہت زیادہ تابکاری کے اخراج کا سبب بن سکتی ہے۔
گروسی نے مزید کہا کہ بیرونی بجلی کی فراہمی کی لائنوں کو پہنچنے والا نقصان بھی سنگین خطرات کا باعث بن سکتا ہے، جو ممکنہ طور پر ری ایکٹر کے مرکزی حصے کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ دونوں صورتوں میں ہنگامی حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہوگی، جس میں کئی سو کلومیٹر تک پھیلے ہوئے فاصلوں کے لیے لوگوں کا انخلا، پناہ گاہیں فراہم کرنا اور مستحکم آئوڈین کا استعمال شامل ہے۔
گروسی نے اعلان کیا کہ وہ جلد ہی ان ممالک کی "ہنگامی تیاری اور ردعمل کی صلاحیتوں" کا جائزہ لینے کے لیے خطے کا دورہ کر رہے ہیں۔
اتوار کے روز متحدہ عرب امارات کے حکام نے بتایا تھا کہ ڈرون حملے کے باعث براکہ پاور پلانٹ کے قریب آگ بھڑک اٹھی تھی۔
متحدہ عرب امارات نے گزشتہ روز کہا کہ اتوار کو براکہ نیوکلیئر انرجی پلانٹ کے قریب ڈرون حملہ عراقی سرزمین سے کیا گیا تھا۔
وزارتِ دفاع نے بتایا کہ اسی دن روکے گئے دو اضافی ڈرون بھی عراق سے ہی داغے گئے تھے۔
متحدہ عرب امارات نے اس تنصیب پر ہونے والے حملے کے ماخذ کا پتہ لگانے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔













