سیاست
3 منٹ پڑھنے
فرانس ماہ ستمبر میں ریاستِ فلسطین کو تسلیم کرے گا، میکرون
"فرانس کو آخر کار فلسطینی ریاست کی تعمیر کرنی چاہیے، اس کی عملداری کو یقینی بنانا چاہیے اور اسے اس قابل بنانا چاہیے
فرانس ماہ ستمبر میں ریاستِ فلسطین کو تسلیم کرے گا، میکرون
French President Emmanuel Macron announces France will recognise the State of Palestine. / Reuters
25 جولائی 2025

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اعلان کیا ہے کہ فرانس ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دوران فلسطین کی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرے گا، اور ایسا کرنے والا یورپ کا سب سے طاقتور ملک بن جائے گا۔

میکرون نے سوشل میڈیا پر لکھا، "فرانس کو آخر کار فلسطینی ریاست کی تعمیر کرنی چاہیے، اس کی عملداری کو یقینی بنانا چاہیے اور اسے اس قابل بنانا چاہیے کہ یہ اپنی  غیرعسکری حیثیت  کو قبول کر کے اور اسرائیل کو مکمل طور پر تسلیم کر کے، مشرق وسطیٰ میں سب کی سلامتی کے لیے اپنا کردار ادا کر سکے۔"

یہ اقدام خاص طور پر اکتوبر 2023 میں غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی کے بعد فرانس کو ان ممالک کی بڑھتی ہوئی فہرست میں شامل کرتا ہے جنہوں نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا ہے یا اس کے تسلیم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے ۔

اب تک کم از کم 149 ممالک فلسطین کو تسلیم کرنے کی حمایت کرتے ہیں تواسرائیل اور یورپ اس معاملے پر منقسم ہیں۔

اسرائیل نے اس فیصلے پر شدید برہمی  کا اظہار کیا ہے۔

وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے فرانسیسی اقدام کو "دہشت گردی کے لیے انعام" قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ  اس سے " غزہ کی طرح مزید  ایک ایرانی پراکسی  کے جنم لینے  کا خطرہ   پیدا ہو گا۔"

انہوں نے ایک بیان میں کہا، "صاف بات کریں: فلسطینی اسرائیل کے ساتھ ایک ریاست نہیں چاہتے؛ وہ اسرائیل کی جگہ صرف ایک ریاست چاہتے ہیں۔"

دوسری جانب، یورپی رہنماؤں نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا۔

آئرلینڈ کے وزیر اعظم سائمن ہیرس نے اسے "دو ریاستی حل کے نفاذ کی جانب ایک اہم قدم" قرار دیا۔

ہسپانوی  وزیر اعظم پیدرو سانچیز نے کہا، "ہمیں مل کر وہ تحفظ دینا ہوگا جسے نیتن یاہو تباہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دو ریاستی حل ہی واحد حل ہے۔"

اسکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر جان سوئنی نے برطانیہ پر زور دیا کہ وہ فرانس کی پیروی کرے اور اس اقدام کو "امن کے لیے ضروری" قرار دیا۔

انسانی بحران  سے دباؤ بڑھ گیا

میکرون کا بیان ایک  ایسے وقت میں سامنے  آیا  ہے جب غزہ میں انسانی تباہی پر بین الاقوامی تشویش بڑھ رہی ہے، جہاں غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک 59,500 سے زائد فلسطینی، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں، ہلاک ہو چکے ہیں ۔

عالمی ادارہ صحت نے غزہ میں "انسانی ساختہ" قحط  کا ذمہ دار  اسرائیل کی ناکہ بندی  کو ٹہرایا ہے۔

میکرون نے اپنے خدشات کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ "آج کی فوری ترجیح غزہ میں جنگ کو ختم کرنا اور شہری آبادی کو بچانا ہے۔"

گزشتہ نومبر میں، بین الاقوامی فوجداری عدالت نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔

اسرائیل کو بین الاقوامی عدالت انصاف میں نسل کشی کے مقدمے کا بھی سامنا ہے۔

 

دریافت کیجیے
مشرق وسطی میں ایرانی ڈرونز گرانے میں مدد کی ہے:زیلنسکی
اسرائیل انسانیت کے لیے ایک "کینسر ہے": خواجہ آصف
ایرانی سینیئر سفارتکار  امریکہ۔اسرائیل دہشت گرد حملے میں ہلاک
بیلجیئم: جنگ بندی میں لبنان کو بھی شامل کیا جائے
ٹرمپ: امریکی فوجیں علاقے میں موجود رہیں گی
پاکستان: ہم، لبنان میں اسرائیلی 'جارحیت' کی سخت مذّمت کرتے ہیں
شمالی کوریا نے کلسٹر مونیشن وارہیڈ بیلسٹک میزائل کاتجربہ کر ڈالا
لبنان پر حملوں کا جواب،حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر راکٹ برسا دیئے
امریکہ-ایران جنگ بندی کا اعلان،اسرائیل کی حمایت
لبنان پر اسرائیلی حملے، 4 افراد ہلاک
فائر بندی کی حمایت نیتن یاہو کی 'سیاسی ناکامی' ہے: لاپڈ
تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی، عالمی اسٹاک میں زبردست اضافہ
ایران: امریکہ نے 10 نکاتی امن تجویز کو 'اصولی طور پر' قبول کر لیا ہے
پاکستان: امریکہ اور ایران فوری جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں
امریکہ آبنائے ہرمز میں ٹریفک کی بھیڑ کو سنبھالنے میں مدد کرے گا: ٹرمپ