اامریکی میڈیا کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس منگل کو ایران کے بارے میں بات چیت کے لیے پاکستان جا رہے ہیں ۔
امریکی نیوز سائٹ Axios نےتین امریکی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے جنگ ختم کرنے کے لیے ممکنہ معاہدے پر ایران کے ساتھ بات چیت کی غرض سے وینس منگل کی صبح اسلام آباد کے لیے روانہ ہوگئے ہیں ۔
رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس پیر کو تہران سے اس بات کا اشارہ ملنے کا انتظار کر رہا تھا کہ آیا وہ اپنا مذاکراتی وفد اسلام آباد بھیجے گا۔
ثالث ممالک نے ایرانی حکام سے کہا ہے کہ وہ مذاکرات میں شرکت کریں اور انہیں وفد بھیجنے کی تاکید کی گئی ہے۔
تہران نے ابھی تک اسلام آباد کو وفد بھیجنے کا حتمی اعلان نہیں کیا۔ تاہم پاکستانی ذرائع نےنیو یارک پوسٹ کو بتایا کہ تہران 'دوسرے دور کے لیے رضامند' ہے، لیکن 'اس کے بارے میں فی الحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا'۔
مرکزِ ثقل
دی نیو یارک ٹائمز کے مطابق ان مذاکرات میں اسٹیو وِٹکوف، جیراڈ کشنر اور دیگر سینئر شخصیات موجود ہو سکتی ہیں، مگر مرکزِ ثقل جے ڈی وینس ہی ہیں۔
امریکی نائب صدر پر اس جنگ سے باہر نکلنے کے عمل کی رہنمائی کا فرض سونپا گیا ہے، جو عالمی معیشت اور توانائی کی پیچیدہ رسد کی زنجیروں پر دباؤ ڈالتے رہنے کے باعث تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔
پاکستان نے 11-12 اپریل کو اعلیٰ سطحی امریکی-ایرانی پہلے براہِ راست رابطے کی میزبانی کی، جو 1979 میں دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات ختم ہونے کے بعد پہلی اعلیٰ سطحی ملاقات تھی، مگر یہ بات چیت بغیر کسی بڑی پیش رفت کے ختم ہو گئی۔
اتوار کی رات اسلام آباد کو سخت سیکیورٹی لاک ڈاؤن میں رکھا گیا، حکام نے شہر بھر میں اضافی پولیس اہلکار تعینات کرنے کی تصدیق کی ہے۔












