ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمنیہ نے کہا کہ وہ کسی بھی نئے امریکی حملے کا ماضی کے مقابلے میں "زیادہ وسیع پیمانے کا ، زبردست اور فوری" جواب دیں گے، اور یہ کہ جنگ صرف خطے تک محدود نہیں رہے گی۔
ایران کی مہر نیوز ایجنسی کے مطابق فوج کے ترجمان اکرمیہ نے یہ بیان ایک ریڈیو پروگرام کے دوران دیا۔
اکرمنیہ نے کہا کہ "دشمن ہدف پر مبنی ذخائر" کی تجدید کردی گئی ہے اور امریکی جارحیت کی دھمکیوں کے جواب میں مسلح افواج کی دفاعی اور جارحانہ صلاحیتوں کو بہتر بنایا گیا ہے، انہوں نے مزید کہا، "امریکہ کی طرف سے کسی بھی نئی جارحیت کا ماضی کے مقابلے زیادہ جامع، زبردست اور فوری جواب دیا جائے گا، اور جنگ کی حد مغربی ایشیا خطے تک محدود نہیں ہو گی۔"
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایران کے مذہبی رہنما آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے 31 اکتوبر کو چیف آف جنرل سٹاف میجر جنرل علی عبداللہی، ایرانی فوج کے کمانڈر میجر جنرل امیر حاتمی، اور پاسداران انقلاب کے کمانڈر میجر جنرل احمد واحدی کے ساتھ ایک میٹنگ کے دوران کسی بھی حملے کا "فوری، موثر اور جغرافیائی حد بندی نہ ہونے کی شکل میں" جواب دینے کا حکم دیا تھا۔





















